ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 102
102 اس کے وجود کا کیا ثبوت ہے؟۔آپ فرماتے ہیں کہ میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا۔آخر میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی۔جس طرح ایک بچہ کو اس کی ماں مل جائے تو اسے خوشی ہوتی ہے۔اسی طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہوا۔۔۔تب میں اس کوٹھڑی کا جس میں ، میں رہتا تھا دروازہ بند کر لیا اور ایک کپڑا بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی اور میں اس میں خوب رویا، خوب رویا، خوب رویا اور اقرار کیا کہ اب نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا۔( الحکم جو بلی نمبر دسمبر 1939 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 42-43) اسلام کو دنیا میں زندہ ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے لگاؤ، اس کی طرف جھکاؤ اور اس سے زندہ تعلق ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے چھوٹی عمر میں ہی اپنے سے مثالی لگاؤ اور محبت عطا فرما دی تھی۔آپ نے "محبت الہی" کے عنوان پر ایک لطیف اور مبسوط مضمون شائع فرمایا۔اسی طرح جلسہ سالانہ 1906ء پر پہلی دفعہ پبلک سطح پر ایک پر معارف تقریر "چشمہ تو حید " کے عنوان پر کی۔اس تقریر کے آغاز پر آپ نے عیسائیت کے زوال اور اسلام کی ترقی کی خبر یوں دی۔اب وہ وقت ہے کہ عیسائیت کا بلند اور مضبوط مینار گرا دیا جائے۔یہ مذہب عیسوی کا قلعہ جس کی دیواریں لوہے کی تھیں اب گرنے کو ہے کیونکہ اس کو زنگ لگ گیا ہے۔۔۔اب یہ عیسائی سلطنتیں خود بخود اسلام کی طرف رجوع کریں گی اور وہ یورپ جو عیسائیت کا گھر ہے اسلام کا مرکز ہوگا۔۔۔بی احمدی جماعت۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دن آنے والا ہے کہ تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔" چشمه توحید صفحہ 20-21 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 63) ہم نے پھر محمد کا نام عزت و آبرو کے ساتھ دنیا میں پہنچانا ہے پاکستان بننے کے بعد رتن باغ میں پہلی مجلس مشاورت کا انعقاد ہوا۔جس کے ایجنڈا میں تبلیغ کے ذرائع تلاش کرنا بھی تھا۔چونکہ ابھی پاکستان کا وجود عمل میں آیا ہی تھا اس لئے حضور جماعت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے تھے۔اسے ظلی جلسہ سالانہ بھی قرار دیا گیا جس میں آپ نے اس کے مختلف اجلاسات میں جلالی تقاریر فرما ئیں۔آخری خطاب میں حضور نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت واحترام کو قائم رکھنے کے حوالہ سے ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔"اصل چیز دنیا میں اسلامستان کا قیام ہے۔ہم نے پھر سارے مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا ہے۔ہم نے پھر اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام ممالک میں لہرانا ہے۔ہم نے پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عزت اور آبرو کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا ہے۔ہمیں پاکستان کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے۔ہمیں مصر کے