ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 101 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 101

101 حضرت مصلح موعودؓ کا مقام حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمدالمصلح الموعود ليفة أبی الثانی رضی اللہ عنہ خاندان اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وہ مبارک نشانی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے الہاماً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوفرمایا تھا۔کہ آپ کے اس موعود، مصلح موعود بیٹے کی ولادت کی خبر اس لئے دی گئی ہے کہ :۔" تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہوا ور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے" دراصل آپ کا وجود " رِجَالٌ مِن ھولَاء فَارِسِ " کی پیشگوئی کا بھی مصداق ہے جو ثریا سے ایمان کو دوبارہ لوگوں کے دلوں میں جاگزین کرنے کا موجب ہوا۔آپ نے اپنے والد مکرم حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی وفات پر آپ کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا تھا کہ " اگر سارے لوگ بھی آپ کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا ہی رہ جاؤں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروں گا اور کسی مخالفت اور دشمنی کی پرواہ نہیں کروں گا۔" اسلام کی تبلیغ ، اس کی حفاظت اور دفاع کے لئے آپ بچپن سے ہی دعا کیا کرتے تھے کہ "اسلام کا جو کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اتنا ہوا نا ہو کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسانہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں" (اشتہار 20 فروری 1886ء از مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 95) ( تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 71) تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 144) آپ نے اسلام کے شرف اور کلام اللہ کے مرتبہ کو بلند کرنے کے لئے تاریخی کام کئے۔آئندہ صفحات پر اس کی ایک جھلک ہم ملاحظہ کریں گے۔آپ خود اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" جب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کی تاریخ لکھی جائے گی تو مسلمان مورخ اس بات پر مجبور ہو گا کہ وہ اس تاریخ میں میرا ذکر بھی کرے۔اگر وہ میرے نام کو اس تاریخ میں سے کاٹ ڈالے گا تو احمدیت کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ کٹ جائے گا، ایک بہت بڑا خلاء واقع ہو جائے گا۔جس کو پُر کرنے والا اسے کوئی نہیں ملے گا۔" ( تقریر جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1961ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 112) مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو آپ جب 11 برس کے تھے تو آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لاتا ہوں۔