ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 100
100 ناموس رسالت کی خاطر محمد کا تخت مسیح سے چھین کر دوبارہ محمد کے آگے پیش کرتا ہے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک کشف کی بناء پر "سیر روحانی" کے نام سے خطابات کا سلسلہ شروع فرمایا۔جو اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، قرآن کریم اور اسلام کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔1953ء میں 25 دسمبر کے لیکچر کے آخر میں جلالی رنگ میں آپ نے فرمایا۔اب خدا کی نوبت جوش میں آئی ہے اور تم کو ہاں تم کو ہاں تم کو خدا تعالیٰ نے پھر اس نوبت خانہ کی ضرب سپرد کی ہے۔اے آسمانی بادشاہت کے موسیقار و! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو!! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو !! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو کہ عرش کے پائے بھی لرز جائیں اور فرشتے بھی کانپ اٹھیں تا کہ تمہاری درد ناک آواز میں اور تمہارے نعرہ ہائے تکبیر اور نعرہ ہائے شہادت تو حید کی وجہ سے خدا تعالیٰ زمین پر آجائے اور پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت اس زمین پر قائم ہو جائے۔اسی غرض کے لئے میں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اور اسی غرض کے لئے میں تمہیں وقف کی تعلیم دیتا ہوں۔سیدھے آؤ اور خدا کے سپاہیوں میں داخل ہو جاؤ۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے تم نے مسیح سے چھین کر پھر وہ تخت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا ہے اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تخت خدا کے آگے پیش کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم ہونی ہے۔پس میری سنو! اور میری بات کے پیچھے چلو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ خدا کہہ رہا ہے۔میری آواز نہیں۔میں خدا کی آواز تم کو پہنچارہا ہوں۔تم میری مانو۔خدا تمہارے ساتھ ہو! خدا تمہارے ساتھ ہو! خدا تمہارے ساتھ ہو! اور تم دنیا میں بھی عزت پاؤ اور آخرت میں بھی عزت پاؤ" (سیر روحانی صفحہ 619-620)