ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 97
97 اسلام پر اعتراضات کا آرہ چلتا ہے مگر کسی کو گھبراہٹ نہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ لوگ اپنے اپنے نفسانی ہم وحزن میں مبتلاء ہیں اور بچے اسباب اور ذرائع ترقی کی تلاش سے محروم و بے نصیب ہیں۔( حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 549) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے آپ کی سیرت کے حوالہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح اول نے ایک موقع پر فرمایا کہ فلاں معاند اسلام سے میری گفتگو ہوئی اور اس نے اسلام کے خلاف یہ اعتراض کیا اور میں نے سامنے سے یہ جواب دیا اس پر تلملا کر کہنے لگا میری تسلی نہ ہوئی گو آپ نے میرا منہ بند کر دیا فرمانے لگے تسلی دینا خدا کا کام ہے میرا کام چپ کرا دینا ہے تا کہ تمہیں بتادوں کہ اسلام کے خلاف تمہارا کوئی اعتراض چل نہیں سکتا۔یہ درست ہے کہ ان معاملات میں حضرت مسیح موعود کا طریق اور تھا یعنی آپ مخالف کو چپ کرانے کی بجائے اس کی تسلی کرانے کی کوشش فرماتے تھے اور گفتگو میں مخالف کو خوب ڈھیل دیتے۔مگر ہر ایک کے ساتھ خدا کا جدا گانہ سلوک ہوتا ہے اور یہ بھی ایک شان خدا وندی ہے کہ خصم تسلی پائے یا نہ پائے۔مگر ذلیل ہو کر خاموش ہو جائے اسی لئے کسی کہنے والے نے کہا ہے۔ع ہر گلے را رنگ و بُوئے دیگر است حضرت مسیح موعود کی طرف سے آپ کی غیرت اسلامی کا اظہار آپ فرماتے ہیں:۔تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 571) "سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نو را خلاص کی طرح نور دین ہے۔میں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلاء کلمہ اسلام کیلئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔ان کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہے اس کے تصور سے قدرت الہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔پھر آپ تحریر فرماتے ہیں:۔(فتح اسلام از روحانی خزائن جلد 3 صفحه 35 ) "مولوی حکیم نورالدین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور للہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی