ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 96
96 علی گڑھ کالج کے بعض طلباء کو ایک خط میں لکھا کیمرج آکسفورڈ کی ہوا چل رہی ہے ہم لوگ وادی غیر ذی زرع کی ہوا کے گرویدہ ہیں۔فرماتے تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لڑائیوں میں اپنی بیوی عائشہ صدیقہ اور اپنی بیٹی فاطمہ کو بھی لے جاتے تھے کسی تاریخ میں نہیں لکھا کہ یہ دونوں پکڑی گئی ہوں۔میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی شکست نہیں کھائی۔میں ایسی کہانیوں کو جھوٹ سمجھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکست بھی کھائی۔( تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 550) ایک شخص نے آپ سے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیوں کرتے ہو؟ آپ نے جواب دیا کہ زمین گول ہے نماز کا وقت زمین پر ہر جگہ ہوتا ہے ہر وقت سینکڑوں لوگ نمازیں پڑھتے ہیں پھر ہر نماز میں درود پڑھی جاتی ہے اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا تم بتاؤ کوئی رسول بھی ایسا ہے جس کے لئے اس قدر دعائیں مانگی جاتی ہوں اور مانگی گئی ہوں۔درود شریف کی تاثیرات و برکات کو آپ بڑے شرح وبسط سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 550) خدا تعالی نے مجھے رسول سے ایسی محبت بخشی ہے کہ میرے کسی گوشہ میں آپ کی تعلیم ، آپ کی اولاد، آپ کی آل سے ذرا بغض نہیں رہا۔میں نے اتنی تاریخیں پڑھی ہیں۔خارجی ، شیعہ رافضی کی مگر پھر بھی کسی صحابی سے مجھے رنج نہیں۔نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سے نہ کسی آل و اولاد سے رنج ہے اور خدا کا فضل ہے۔تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 550) آپ مدینہ منورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک پر دعا کر رہے تھے کہ یکا یک خیال آیا کہ اصل چیز تو تو حید ہے اس لئے خانہ کعبہ جا کر دعا کرنی چاہئے۔اور اپنی دعاؤں کے لئے آنحضرت کے مزار کو واسطہ نہیں بنانا چاہئے۔یہ خیال آنا تھا کہ آپ نے مکہ کی تیاری کر لی۔خدا کی طرف منسوب ہونے والے ہر الہامی کلام کی خاص عزت و عظمت آپ کے دل میں تھی۔ایک مرتبہ شیخ محمد تیمور صاحب نے الماری پر رکھی ہوئی بائبل پر کوئی اور کتاب رکھ دی۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ بائبل ہزار مبدل محرف سہی پھر بھی یہ خدا کی کتاب ہے۔تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ (551) پھر آپ نے فرمایا اس وقت ہم پر ظلم ہورہا ہے کہ اللہ پر، اس کے رسول پر، اس کی مطہر بیبیوں پر خطر ناک حملے ہوتے ہیں۔اول عیسائیوں کی طرف سے پھر برہموں کی طرف سے پھر آریوں کی طرف سے ان کی تردید کی جاوے۔پھر فرمایا ( حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 274) ہندوستان میں 12 ریاستیں ہمارے دیکھتے دیکھتے تباہ ہوگئی ہیں۔کئی معزز گھرانے مرتد اور بے دین ہو گئے ہیں