ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 95
95 رائے دی کہ یہ میموریل در بار تاجپوشی کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہو لہذا حضرت خلیفہ اول نے بھی اس سے اتفاق فرمایا اور احمدی جماعتوں کو اس سے مطلع کر دیا گیا کہ وہ اس معاملہ میں مسلم لیگ کی ہر طرح تائید و معاونت کریں۔مسلم لیگ کے ہاتھ میں لے لینے کے بعد جس شخص نے سب سے زیادہ اس کی تائید میں منظم کوشش کی وہ شمس العلماء مولانا شبلی تھے جنہوں نے اس غرض کے لئے چندہ جمع کیا۔انگریزی میں میموریل لکھوا کر مسلمانوں کے دستخط کروائے اور ندوۃ العلماء کے اجلاس منعقدہ 6, 7, 8 اپریل 1912ء میں ریز لیوشن پیش کر کے اس تحریک کی تائید میں ایک مختصر اور پر دلائل تقریر فرمائی اس اجلاس میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب بھی موجود تھے آپ نے بھی اس کی تائید کی اور مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے رخصت ملنے لگی۔تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 380-381) انجمن مبلغین کے قیام کی تحریک حضرت خلیفہ البیع الاول کی تحریک پر 1912ء کے ابتداء میں قادیان کے بعض نوجوانوں نے یادگار احمد کے نام سے مبلغین کی ایک انجمن بنائی جس کی غرض اسلام کی تائید اور باقی مذاہب کے ابطال میں چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ شائع کرنا تھا۔اس انجمن کے تحت پہلاٹریکٹ کسر صلیب کے نام سے شائع ہوا۔( تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 429) اللہ اور اس کے رسول کے لئے آپ کی غیرت خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی غیرت آپ کے دین و عقیدہ کا جزو اعظم تھی۔جو آپ کے رگ وریشہ میں سرایت کر چکی تھی آپ کوئی ایسی بات جس سے خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر حرف آئے یا اس کی شان کو داغدار کرے آپ کے لئے نا قابل برداشت ہو جاتی تھی۔طالب علمی کے زمانہ میں ایک دفعہ آپ کے ایک استاد کے ہاں پیران پیر کی گیارہویں شریف کی جلیبیاں آئیں۔استاد نے کہا کہ ان کا کھا لینا جائز ہے مگر آپ نے یہ کہتے ہوئے کھانے سے صاف انکار کر دیا کہ مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللہ کا آپ کو خیال نہیں۔فرماتے تھے کہ ڈاکٹروں اور حکیموں میں یہ مرض ہے کہ کہتے ہیں کہ ہم نے شفادی اور اگر مریض اچھا نہ ہو تو کہتے ہیں خدا کی مرضی۔آپ شافی مطلق صرف خدا کو سمجھتے تھے اور اس حقیقت کی طرف بڑے لطیف رنگ میں آپ دوستوں کو توجہ دلاتے رہتے تھے۔، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی آپ کو بے حد غیرت تھی۔مولوی ریاض احمد بریلوی کے نام ایک خط میں لکھا:۔حضرت شاہ ولی اللہ مجد دحکیم الامت نے بھی زینت کے قصہ میں لغزش کھائی ہے اور حجۃ اللہ البالغہ میں ایک لفظ لکھ دیا ہے جس سے ایک مومن رنج اٹھاتا ہے۔ایک شخص نے قاضی مبارک پڑھنے کی درخواست کی فرمایا پہلے ایک صفحہ مشکوۃ شریف کا پڑھ لیا کرو مگر وہ آمادہ نہ ہوا اس لئے آپ نے بھی پڑھانے سے انکار کر دیا۔ایک دفعہ آپ نے