ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 94 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 94

94 نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے میموریل کے ذریعہ رخصت کی درخواست اس سلسلہ میں مولانا دوست محمد شاہد صاحب مورخ احمدیت نے حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح الاول کی کا وشوں کا ذکر یوں کیا ہے شہنشاہ جارج پنجم کا دربار تا چپوشی عنقریب دہلی میں ہونے والا تھا۔اس اہم واقعہ پر حضرت خلیفہ اول کے دل میں تحریک ہوئی کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے جس میموریل کی طرف حضرت مسیح موعود نے توجہ دلائی تھی اور جو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی غفلت سے درمیان میں ہی رہ گیا تھا۔اسے اس خوشی کی تقریب پر وائسرائے ہند کی خدمت میں بھیجا جائے تو کامیابی کی امید ہو سکتی ہے۔چنانچہ آپ نے سلسلہ احمدیہ کے امام کی حیثیت سے مسلمانان ہند کے نام ایک مفصل اعلان شائع کیا۔تا مسلمان پبلک اور مسلمان اخبارات اور مسلمان انجمنیں بھی اپنی قراردادوں کے ذریعہ اس حق میں آواز اٹھائیں۔نیز لکھا کہ یہ غرض نہیں کہ ضرور ہم ہی اس کو پیش کرنے والے ہوں چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں یہ تحریک ڈالی ہے اس لئے اسے ہم نے پیش کر دیا ہے اگر کوئی انجمن یا جماعت ایسی ہو جو صرف اس وجہ سے اس کے ساتھ اتفاق نہ کرے کہ یہ میموریل ہماری طرف سے کیوں پیش ہوتا ہے تو ہم بڑی خوشی سے اپنے میموریل کو گورنمنٹ کی خدمت میں نہیں بھیجیں گے بشرطیکہ اس کے بھیجنے کا کوئی مناسب انتظام کر لیا جائے اس اعلان کا ہر مکتبہ فکر کے مسلمانوں نے پر جوش خیر مقدم کیا اور مسلمان مقدس اسلامی شعار کے تحفظ کے لئے پھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔چنانچہ مسلم پریس نے اس کے حق میں پر زور آواز اٹھائی اور پر جوش الفاظ میں ( تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 379) اداریے لکھے۔اخبار الاسلام لاہور نے لکھا کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جس کے دل میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیارے دین اسلام کی سچی محبت ہو اور وہ اس میموریل کی مخالفت کرے یا اسے نا پسند کرے۔کیا کوئی مسلمان ایسا کر سکتا ہے، ہرگز نہیں۔آل انڈیا مسلم لیگ کا فرض ہے کہ وہ اس معاملہ کو ہاتھ میں لے اور ایک میموریل تیار کرے۔تمام انجمنوں و ڈسٹرکٹ لیگوں کا فرض ہے کہ وہ اس میموریل کی تائید میں ریزولیوشن پاس کریں۔تمام رسالوں اور اخبارروں کا فرض ہے کہ اس معاملہ کو اس وقت تک نہ چھوڑ میں جب تک اس میں کامیابی نہ ہو جائے۔اخبار اہلحدیث امرتسر نے لکھا:۔حکیم صاحب نے ایک اشتہار سب مسلمانوں کی اتفاق رائے اور تائید کے لئے اس امر کے متعلق دیا ہے کہ دربار تاجپوشی دیلی کے موقعہ پر گورنمنٹ سے ایک میموریل کے ذریعہ جمعہ کی نماز کے لئے دو گھنٹہ کی تعطیل حاصل کی جائے اور بذریعہ سرکلر سرکاری دفاتر ، سکولوں اور کالجوں میں یہ تعطیل ہونی چاہئے۔حکیم صاحب کی رائے سے ہم متفق ہیں۔تمام مسلمانوں کی معرفت بھیجنا چاہئے۔مسلمان اخبارات اور دوسرے عام مسلمانوں نے عموما اور علی گڑھ تحریک سے وابستہ لوگوں نے خصوصاًیہ