ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 93 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 93

93 اسی سال آپ کا ایک رسالہ رد عیسائیت میں بعنوان ابطال الوہیت مسیح بھی شائع ہوا۔تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 166 ) اسلام کی خاطر غیرت دکھلانے اور ناموس رسالت کی حفاظت کی خاطر آپ کی اکثر کا دوشوں کا ذکر پہلے حصہ میں ہو چکا ہے۔یہاں اس تکرار کی چنداں ضرورت نہیں۔جیسے آریہ سماج و چھو والی لاہور کے جلسہ دسمبر 1907ء میں آپ کا حضرت مسیح موعود کا مضمون پڑھنا گو یہ مضمون آپ کے پیر ومرشد کا تھا اور آپ کو اس لحاظ سے کوئی کریڈٹ نہیں جاتا۔لیکن جس زور دار پر اثر آواز میں آپ نے یہ مضمون پڑھا جس سے حاضرین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔یہ آپ کی اسلام سے محبت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر غیرت کی عکاسی کر رہی ہے۔آپ کی رعب دار آواز نے آریہ سماج پر سکتہ کی سی کیفیت پیدا کر دی۔انجمن دیا نند مت کھنڈن سبھا دہلی اور حضرت خلیفہ اول کی معاونت حضرت خلیفتہ اسیع الاول کے دور خلافت میں دہلی اور اس کے ماحول میں آریہ سماج نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زبر دست فتنہ برپا کیا۔جماعت احمد یہ دہلی کے نامور ممبر حضرت میر قاسم علی صاحب نے ان دشمنان اسلام کے تحریری اور تقریری دفاع کے لئے اپنی زندگی وقف کر کے دیا نند مت کھنڈن سبھا کے نام سے ایک انجمن قائم کی اس انجمن نے آریوں کی زہریلی کھلیاں توڑنے میں بڑا بھاری کام کیا جس سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے حضرت خلیفہ مسیح الاول نور اللہ مرقدہ نے اس انجمن کے استحکام کے لئے یکصد رو پیدا پنی جیب سے عطا فر مایا۔مسیحی لیکچروں کے جواب میں اسلامی لیکچرز تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ (302) اواخر 1909 ء میں عیسائیوں نے فورمین کالج میں مسلمانوں کے خلاف تقریروں کا ایک سلسلہ شروع کیا حضرت خلیفہ اسی الاول نے 5 نومبر 1909ء کو یہ اعلان فرمایا کہ ہم بھی لاہور میں اسلامی لیکچروں کا سلسلہ شروع کریں گے۔چنانچہ 29 دسمبر 1909ء تا یکم جنوری 1910ء چار روز احمد یہ بلڈ ٹیکس میں جوابی لیکچرز ہوئے جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا نجات کے موضوع پر مدلل لیکچر شامل ہیں۔مدرسہ الہیات کے لئے مالی اعانت تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 305) کان پور میں مدرسہ الہیات کے نام سے ایک مدرسہ قائم ہوا جس کی غرض اشاعت و حفاظت اسلام تھی آپ کو چونکہ ایسی انجمنوں سے شروع سے ہی گہری دلچسپی رہی ہے اس لئے آپ نے اس کے سیکریٹری کو جہاں عمدہ مشورے دیئے وہاں اشاعت اسلام کے لئے بھی ایک معقول رقم ان کو بھجوائی۔تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 315)