ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 92
92 اعتراضات، قرآن کریم پر ہونے والے اعتراضات پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے۔مکرم عبدالحکیم صاحب کا تب کتاب ہذا نے اس کتاب کے آخر پر ایک قطعہ تحریر کیا جس میں اس کتاب کی تاریخ اور مقاصد کا ذکر کیا ہے۔آپ تحریر کرتے ہیں رد نصاری کا ہوا جبکہ ہو راد اسلام کفر گرجا میں چھپا جب یہ چھپی عمدہ کتاب سال طبع اس کا لکھ اے عبد حکیم کاتب واہ کیا رد نصاریٰ میں لکھی عمدہ کتاب (1305ھ) تصدیق براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت فصل الخطاب اشاعت اول صفحہ 448) رد عیسائیت کے لئے آپ کی تصنیف فصل الخطاب کو ایک تاریخی حیثیت حاصل ہوئی اور رد آریہ دھرم کے لئے آپ نے حضرت مسیح موعود کی تحریک پر تصدیق براہین احمدیہ تحریر فرمائی۔آپ نے تحریر فرمایا کہ :۔" آج ہمارے مخالف ہمارے مقابلہ پر ایک جان کی طرح ہو رہے ہیں اور اسلام کو صدمہ پہنچانے کے لئے بہت زور لگا رہے ہیں میرے نزدیک آج جو شخص میدان میں آتا ہے اور اعلائے کلمتہ الاسلام کے لئے فکر میں ہے وہ ( مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 43) پیغمبروں کا کام کرتا ہے۔" اگر اس کتاب کو اول سے اخیر تک پڑھا جائے تو ایک ایک لفظ سے اسلام کا دفاع معلوم ہوتا ہے اور بانی اسلام کی شان دوبالا ہوتی ہے۔کتاب نورالدین کی تصنیف اسلام سے ارتداد کر کے آریہ مذہب اختیار کرنے والے عبد الغفور آریہ نام دھرم پال نے ترک اسلام کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں دھرم پال نے یہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی کہ اسلام نعوذ باللہ دنیا کا سب سے بُرا مذہب ہے۔اس میں درج اعتراضات کے جواب میں حضرت مولوی نورالدین صاحب نے نورالدین کے نام سے ایک مفصل معرکہ آرا کتاب تصنیف فرمائی جس میں اسلامی تعلیم کی خوبیاں بیان فرما ئیں۔حضرت مولوی صاحب نے خوابوں اور رویا کی بناء پر اس کی خوب تشہیر فرمائی اور دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف اسلام کے خلاف فتنہ دب گیا بلکہ دھرم پال نئے سرے سے مسلمان ہو کر اسلام کی تعریف میں رطب اللسان ہو گیا اور اسلام کے خلاف لکھی ہوئی کتابیں اپنے ہاتھ سے جلا دیں۔حضرت مولوی صاحب نے اسلام دشمن کتاب ستیارتھ پر کاش کا جواب لکھنے کا بھی ارادہ فرمایا مگر دوسرے دینی مشاغل کی وجہ سے لکھ نہ پائے۔تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 164-165 )