ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 91 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 91

91 اسی طرح سرمه چشمہ آریہ کی سو جلدیں خرید کر مفت تقسیم کیں اور رسالہ سراج منیر کے لئے چندہ دیا۔جس کی ایک قسط 50 روپے کا دینا حضرت مسیح موعود کے ایک خط سے بھی ثابت ہے۔(مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 18 ) ازالہ اوہام کی اشاعت میں قابل قدر قربانی کا ذکر حضرت مسیح موعود نے اپنے ایک اشتہار میں فرمایا۔( تبلیغ رسالت جلد 2 صفحہ 73) عیسائیت کے جواب میں " فصل الخطاب" کی تصنیف 1886ء کے آغاز میں ایک حافظ قرآن عیسائیت سے متاثر ہو کر اسلام کو خیر باد کہنے کو تیار تھے۔آپ کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ کا اسلام کی خاطر در در رکھنے والا دل تڑپ اٹھا اور آپ نے حافظ قرآن سے رابطہ کر کے اسے بپتسمہ لینے سے روک دیا اور اُس پادری سے ملاقات کی خواہش کی جس پر اس نے پنڈ دادنخان کے انگریز پادری تھامس ٹاول سے ملاقات کروائی۔اسلام کی غیرت رکھنے والا یہ محب رسول گشیر بن کر پادری کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ اسلام کے حوالہ سے جو بھی اعتراضات آپ کے دل میں ہیں کریں میں اس کا جواب دوں گا۔پادری صاحب نے لکھ کر سوال کئے اور آپ نے چار جلدوں میں اس کا جواب تیار کیا جو بعد میں "فصل الخطاب" کے نام سے شائع ہوا۔فصل الخطاب اپنی نوعیت کی نرالی اور لاجواب تصنیف ہے۔جسے پڑھ کر عیسائیت سے متاثر حافظ اور اس کے دوسرے ساتھی ارتداد سے بچ گئے اور کہا اب ہم سچے دل سے مسلمان ہو گئے ہیں۔آپ نے اس کتاب میں اسلام پر اٹھنے والے تمام اعتراضات کے مسکت اور مدلل جواب دیئے ہیں اسلام بزور شمشیر پھیلنے کا جواب دیتے ہوئے فرمایا :۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں، اسلام کے مخالفوں نے اکثر یہ طعن کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بزور شمشیر شائع ہوا ہے اور تلوار ہی کے زور سے قائم رہا۔جن مورخین عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ یعنی لائف لکھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرنا انہوں نے اپنا شعار کر لیا ہے اور ان کے طعن کی وجہ فقط یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے اپنے تئیں اور اپنے رفقاء کو دشمنوں کے حملوں سے بچایا قوانین اسلام کے موافق ہر قسم کی آزادی مذہبی اور مذہب والوں کو بخشی گئی جو سلطنت اسلام کے مطیع و محکوم تھے۔لا إكراه في الدين (البقرة 257) دین میں کوئی جبر نہیں یہ آیت کھلی دلیل اس مرکی ہے کہ اسلام میں اور اہل مذاہب کو آزادی بخشنے اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے۔“ (فصل الخطاب صفحہ 98-99) مولوی سید محمد علی صاحب کا نپوری نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا " اس عمدہ کتاب میں پر جوش تحریر کے ساتھ اکثر نئی تحقیق کا دریا موجزن ہے۔اسلام کی خوبی کومختصر طور سے خوب دکھایا ہے اور غالباً عیسائیوں کے کل اعتراضوں کے جواب الزامی اور تحقیقی خوش اسلوبی سے دیئے ہیں اور نبوت سرور انبیاء اور ضرورت قرآن مجید کو عمدہ طرز سے ثابت کیا ہے" تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 116) اس کے علاوہ اس 480 صفحے کی مبسوط کتاب میں عورتوں سے سلوک، جہاد، ازواج مطہرات پر ہونے والے