ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 90 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 90

90 مدارس کھولے جائیں۔اس انجمن کا نام انہوں نے از خود دانجمن اشاعت اسلام رکھا حضرت مولوی نورالدین صاحب کو چونکہ اسلام سے محبت اور بانی اسلام سے عقیدت واحترام کا رشتہ تو پیدائش سے ہی تھا اس لئے آپ نے دیگر مشاہیر اسلام کی طرح اس کی پر زور تائید فرمائی اور گرانقدر سالانہ چندہ بھی اس کے استحکام کے لئے اپنے ذمہ فرض کر لیا۔گو یہ انجمن پروان نہ چڑھ سکی لیکن اسلام کے دفاع کے لئے کسی انجمن کی بہر حال ضرورت محسوس ہو رہی تھی اس کی ناکامی کے بعد انہی اغراض و مقاصد کو لے کر لاہور ہی کے چند مسلمان جن کے دل قومی درد اور اسلامی جذبہ سے معمور تھے، اکٹھے ہوئے اور ایک دوسری انجمن انجمن حمایت اسلام کے نام سے مارچ 1884ء میں قائم کرنے کا اعلان کر دیا تا کہ اس کے ماتحت عیسائی مبلغین کی اسلام مخالف ریشہ دوانیوں اور آریہ سماج کی معاندانہ سرگرمیوں کی روک تھام کا انتظام کیا جا سکے اور اس کے تحت اسلام کی ترویج کا انتظام بھی ہو سکے اور مخالفین اسلام کے جواب تحریری و تقریری تہذیب کے ساتھ دیئے جاسکیں۔حضرت مولانا نورالدین صاحب جو پہلے اشاعت اسلام کے نام پر دیوانہ وار آگئے بڑھے تھے اب کی بار بھی حمایت اسلام کے نام پر دل و جان سے لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں آئے اور انجمن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہر ممکن سعی وجدو جہد سے نہ صرف کام لیا بلکہ مالی اعانت بھی کی، اس کی خاطر مضامین بھی لکھے۔قرآنی علوم و معارف پر درس دیئے۔یہ صرف اس لئے تھا کہ کوئی دشمن اسلام، اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہرزہ سرائی نہ کرے۔( تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 97-99) چنانچہ مشہور اسلامی مبلغ مولوی حسن علی مونگھیری صاحب نے آپ کی 1893ء کے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں شمولیت کا ذکر کیا ہے اور اسلام کی حمایت میں آپ کی تقریر کو بہت سراہتے ہوئے کہا کہ مجھ کو فخر ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اتنے بڑے عالم اور مفسر کود یکھا اور اہل اسلام کو جائے فخر ہے کہ ہمارے درمیان اس زمانے میں ایک ایسا عالم موجود ہے۔تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 137 ) اسلام مخالف کتب کے جواب میں لکھی گئی حضرت مسیح موعود، کی کتب کی اشاعت میں حضرت مولوی صاحب کی مالی اعانت جیسا کہ حضرت مسیح موعود کی کتب کے بارے میں تحریر کیا جاچکا ہے کہ آپ کی تمام تر کتب اعلائے کلمہ اسلام اور مخالفین و معاندین اسلام کی اسلام کے خلاف زبان درازیوں ، ہرزہ سرائیوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں جس کو آپ کے مرید حضرت مولوی نورالدین صاحب بخوبی جانتے تھے اس لئے آپ نے اپنے پیر و مرشد حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب کی اشاعت و ترسیل میں دل کھول کر مالی طور پر حصہ لیا تا یہ کتب زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچیں اور اسلام کا بول بالا ہو جیسے براہین احمدیہ کی اشاعت کی جب خبر ملی تو آپ نے ایک عریضہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی خدمت میں تحریر کیا۔جس کو حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب فتح اسلام میں شائع فرمایا۔