ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 89
89 نے مجھے بتا دیا کہ وہ اللہ کے منتخب بندوں میں سے ہیں ( ترجمه عربی عبارت از آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 581-583) اسلام دشمن کتب سے نفرت کا اظہار 1858ء کی بات ہے جب آپ راولپنڈی میں طالب علم تھے اور آپ کی عمر 18 برس تھی۔ایک دن آپ کو ایک شخص آپ کی رہائش گاہ کے قریب ہی واقع ایک انگریز پادری الیگزینڈر ڈوئی کی کوٹھی پر لے گیا۔جہاں اس نے رسوائے عالم پادری فنڈل کی کتب میزان الحق اور طریق الحیاۃ پڑھنے کے لئے آپ کو دیں۔آپ کو قرآن کریم سے اس زمانہ میں بھی بہت محبت تھی اس لئے آپ نے ان دونوں کتابوں کو بہت لچر پایا۔(مرقاۃ الیقین صفحه 203) صحیح بخاری کی خاطر غیرت آپ جب 1871ء میں ہند و عرب سے دینی تعلیم حاصل کر کے بھیرہ واپس تشریف لائے تو آپ کے واپس آنے کی خبر شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بجلی کی طرح پھیل گئی اور مسلمان اور ہندو بڑی کثرت سے آپ کے استقبال کے لئے جمع ہو گئے۔عین اس موقع پر ایک حنفی عالم نے یہ کہہ ڈالا کہ بخاری ایک ایسی کتاب ہے جو ہزار سال سے گوشہ گمنامی میں پڑی تھی اسے دلی کے ایک شخص نے جس کا نام اسماعیل تھا شائع کیا۔بخاری شریف کی شان اقدس میں جسے اَصَحُ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللہ کا مرتبہ حاصل ہے کے متعلق گستاخانہ کلمات گویا تیر ونشتر بن کر آپ کے سینہ میں پیوست ہو گئے۔اور دل و دماغ میں سخت غیظ و غضب پیدا ہوا۔وطن میں آنے کا یہ پہلا دن اور ملاقات کا یہ پہلا نازک موقع تھا اور طالب علمی کے دور کے بعد اب اپنے شہر میں زندگی کے نئے دور کا آغاز کر رہے تھے۔مگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ظیم عاشق اور حق و صداقت کا یہ علمبردار یہ بے ادبی اور جسارت کیسے گوارا کر سکتا تھا۔چنانچہ آپ نے بھری مجلس میں جواب دیا کہ اول تو میں ابھی طالب علمی سے آیا ہوں نہ میرا مطالعہ نہ میری وسعت نظر نہ مجھے تجر بہ لیکن بخاری کے ساتھ شروع کے نام اس وقت مجھے یاد ہیں اگر ایک شرح کو سولہ برس کے قریب قریب ختم کر لیا جائے تو کچھ زیادہ مدت معلوم نہیں ہوتی تو اس ہزار برس میں ہر روز بخاری شریف کی شرح لکھی گئی ہے اور یہ شرحیں شافعی مذہب کی بھی ، حنفیوں کی بھی، مالکیوں کی بھی اور حنبلیوں کی بھی ہیں۔میں نے خود بخاری کو بڑے حنفی مذہب مولوی عبدالقیوم صاحب سے بھوپال میں پڑھا ہے۔پھر شاہ عبد الغنی صاحب سے بھی۔ان دونوں کی صحبت میں میں نے کبھی ایسے الفاظ نہیں سنے۔انجمن اشاعت اسلام اور انجمن حمایت اسلام میں شمولیت تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 71-72) 1880ء کے اواخر کی بات ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے علمائے ہند کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ دنیا بھر میں اسلام کی منادی اور اعلائے کلمہ اسلام کے لئے ملک بھر میں مسلمانوں کی مشتر کہ انجمن ہونی چاہئے۔جس کے تحت عیسائی مبلغین کی طرح واعظوں کو اندرون و بیرون ملک بھجوایا جائے۔اسلامی لٹریچر شائع کیا جائے اور اسلامی