ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 88
88 کے مقابلے کا دم خم نہ تھا۔اس لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب پہلا اشتہار دیکھتے ہی پروانہ وار جموں سے قادیان پہنچے اور فراست و بصیرت کی باطنی آنکھ سے جو صرف صدیقوں کا خاصہ ہے خدا کے اس برگزیدہ کو پہچان لیا جس کے انتظار میں لاکھوں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی محبت وعقیدت میں ایسے کھو گئے کہ سچ سچ سب آپ کے قدموں پر قربان اور نثار کر دیا۔حضرت مولانا نورالدین صاحب نے اگست 1893ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں عربی میں ایک مضمون اور قصیدہ رقم فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے اپنی عربی تصنیف کرامات الصادقین (روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 149-153) میں شائع کر دیا۔جس کا خلاصہ مولانا دوست محمد شاہد صاحب نے تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 151 میں ان الفاظ میں شائع کیا۔" جب میں نے موجودہ زمانہ کے مفاسد دیکھے تو مجدد الزمان کی تلاش میں بیت اللہ شریف تک پہنچا اس مقدس سرزمین میں کئی بزرگوں کو زہد و تقویٰ میں بہت بڑھا ہوا پایا۔مگر ان میں سے کسی کو بھی مخالفین اسلام کے مقابلہ کی طرف توجہ نہ تھی حالانکہ میں خود ہندوستان میں دیکھ چکا تھا کہ لاکھوں طلباء علوم دین کو چھوڑ کر اس کے مقابل انگریزی علوم کو رجیح دے رہے ہیں۔کروڑوں کتابیں دشمنان اسلام کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ میں شائع ہو چکی تھیں۔میں کسی صادق کی آواز کا منتظر تھا کہ ناگاہ حضرت مولف براہین احمدیہ (مہدی الزمان و مسیح دوران ) کی بشارت پہنچی۔پس میں حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی فراست سے معلوم کر لیا کہ آپ ہی موعود اور حکم عدل ہیں اور آپ ہی کو خدا نے تجدید امت کے مقام پر کھڑا کیا اور اس پر میں نے خدا کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے اس احسانِ عظیم پر سجدات شکر بجالایا اور آپ کے غلاموں میں کھڑا ہو گیا۔اور خود حضرت مسیح موعود ماموریت کے وقت سے ہی دین اسلام کی خدمت کے لئے مددگار اور ناصر دین کے لئے دعا کر رہے تھے۔آپ کی دعاؤں اور التجاؤں کے طفیل رب العزت نے کشمیر سے حضرت مولانا نورالدین جیسا عظیم الشان انسان بھیج دیا اور وہ خبر پوری ہو گئی کہ مہدی کے انصار کشمیر سے آئیں گے۔اس اعتبار سے حضرت مولوی صاحب کی آمد لازما ایک عظیم الشان نشان تھی اور آپ بلا شبہ آیت اللہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس امر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مخلص اور صدیق عطا فرمایا جو میرے مددگاروں کی آنکھ اور میرے مخلصین دین کا خلاصہ ہے اس مددگار کا نام اس کی نورانی صفات کی طرح نورالدین ہے وہ مولد کے لحاظ سے بھیروی اور نسب کے اعتبار سے ہاشمی قریشی ہے وہ اسلام کے سرداروں میں سے ہے اور بزرگوں کی نسل سے ہے۔مجھے آپ کے ملنے سے ایسی خوشی ہوئی کہ گویا کوئی جدا شدہ جسم کا ٹکٹ مل گیا اور ایسا مسرور ہوا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت فاروق کے ملنے سے ہوئے تھے۔مجھے سارے غم بھول گئے۔۔۔جب وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے ملاقات کی اور میری نگاہ ان پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ آپ میرے رب کی آیات میں سے ہیں اور مجھے یقین ہو گیا کہ وہ میری اسی دعا کا نتیجہ ہیں جو میں ہمیشہ کیا کرتا تھا اور میری فراست