ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 87 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 87

87 آپ کی ایک دردانگیز دعا 5 جون 1913ء کو حضرت خلیفہ اول کی طبیعت بہت علیل تھی آپ نے سمجھا کہ اب میں دنیا میں نہیں رہوں گا۔سو آپ نے دورکعت نماز پڑھی اور۔۔۔۔یہ دعا فرمائی الہی اسلام پر بڑا تبر چل رہا ہے مسلمان اول تو سست ہیں۔پھر دین سے بے خبر ہیں۔اسلام و قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے خبر ہیں۔تو ان میں ایسا آدمی پیدا کر جس میں قوت جاذ بہ ہو وہ کاہل دست نہ ہو۔ہمت بلند رکھتا ہو " با وجود ان باتوں کے وہ کمال استقلال رکھتا ہو۔دعاؤں کا مانگنے والا ہو، تیری تمام رضا ؤں یا اکثر کو پورا کیا ہو۔قرآن وحدیث سے باخبر ہو پھر اس کو ایک جماعت بخش اور وہ جماعت ایسی ہو جو نفاق سے پاک ہو، تباغض ان میں نہ ہو۔اس جماعت کے لوگوں میں بھی جذب، ہمت اور استقلال ہو، قرآن وحدیث سے واقف ہوں اور ان پر عامل ہوں اور دعاؤں کے مانگنے والے ہوں۔ابتلاء تو ضرور آویں گے، ابتلاؤں میں ان کو ثابت قدمی عنایت فرما اور ان کو ایسے ابتلاء نہ آویں جو ان کی طاقت سے باہر ہوں۔آمین " آپ کی حضرت مرزا غلام احمد سے رابطہ کی وجہ غیرت اسلامی بنی تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 444) حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب بھیرہ کے رہنے والے تھے۔دینی علوم کے بہت بڑے عالم اور حاذق حکیم تھے۔حضرت مسیح موعود کے ساتھ آپ کی وابستگی اور وارفتگی کا آغاز بھی ایک ایسے واقعہ سے ہوا جس کا تعلق بلا واسطہ سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت اور غیرت رسول سے ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ آپ جموں میں ملازمت کرتے تھے کہ ایک صاحب شیخ رکن الدین صاحب (جن کا تعلق ضلع گورداسپور سے تھا اور جموں میں کسی کے ہاں ملازم تھے ) نے آپ کو بتایا کہ گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان میں ایک شخص مرزا غلام احمد نے اسلام کی حمایت میں رسالے اور کتب لکھی ہیں۔حضرت مولوی نور الدین صاحب جو خود بھی اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے دلی پیار رکھتے تھے اور ایک ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو پیشگوئیوں کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہو اور اسلام کے نام کا بول بالا کرنے والا ہو۔آپ نے حضور کی خدمت میں خط لکھ کر کتابیں منگوائیں اور ان کا مطالعہ کیا۔اُدھر آپ کا کشمیر میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان افسر سے ختم نبوت پر مباحثہ ہوا۔اس دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اشتہار آپ کے ہاتھ لگا جو حضور نے اپنے دعوئی ماموریت کے بعد نشان نمائی کی عالمگیر دعوت کے لئے ایشیا، امریکہ اور یورپ کے تمام مذہبی عمائدین و منکرین کو بھجوایا تھا۔چونکہ عیسائیت ، آریہ سماج اور برہمو سماج کے فتنے اسلام کو نڈھال کر رہے تھے اور مسلمان علماء ولیڈروں میں ان