ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 81
81 سچے مسلمان کو خواہش نہیں مگر ذرا اس شخص کی بے پایاں محبت کا اندازہ لگاؤ جس کی روح حج کے تصور میں پروانہ وار رسول پاک (فدا نفسی ) کے مزار پر پہنچ جاتی ہے اور وہاں اس کی آنکھیں اس نظارہ کی تاب نہ لا کر بند ہونی شروع ہو ( تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 579) جاتی ہیں۔آپ کی اپنی اطاعت کا یہ عالم تھا کہ گورداسپور میں جب کہ مولوی کرم دین جہلمی کی طرف سے آپ کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ دائر تھا۔ایک گرمیوں کی رات میں جب کہ سخت گرمی تھی اور آپ اس روز قادیان سے گورداسپور پہنچے تھے آپ کے لئے مکان کی کھلی چھت پر پلنگ بچھایا گیا۔اتفاق سے اس مکان کی چھت پر صرف معمولی منڈ میتھی اور کوئی پردہ کی دیوار نہیں تھی۔جب حضرت مسیح موعود بستر پر جانے لگے تو یہ دیکھ کر کہ چھت پر کوئی پردہ کی دیوار نہیں ہے ناراضگی کے لہجہ میں خدام سے فرمایا کہ "میرا بستر اس جگہ کیوں بچھایا گیا ہے۔کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے۔اور چونکہ اس مکان میں کوئی اور مناسب صحن نہیں تھا آپ نے باوجود شدت گرمی کے کمرہ کے اندرسونا پسند کیا مگر اس کھلی چھت پر نہیں۔آپ کا یہ فعل اس خوف کی وجہ سے نہیں تھا کہ ایسی چھت پر سونا خطرے کا باعث ہے بلکہ اس خیال سے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 585) زندگی کے آخری لمحات میں اپنے محبوب سے کمال کی محبت عشق اور دینی غیرت کا اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور محب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تمام زندگی اپنے معشوق اور محبوب کے ناموس کی حفاظت، آپ کے نام کو زندہ جاوید کرنے اور آپ کے مذہب اسلام و کتاب قرآن کو زندہ تر کرنے کے لئے صرف کر دی۔حتی کہ آپ نے اپنی عمر کے آخری حصہ کو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہاما آپ کو وفات کی خبر مل چکی تھی اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو دوبالا کرنے میں صرف کیا۔زندگی کے آخری لمحات میں "پیغام صلح" جیسی معرکہ آراء کتاب تحریر کی۔جس میں آپ نے ملک کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور ہندوؤں کو صلح و آشتی کا پیغام دے کر اتحاد و اتفاق قائم کرنے اور ہندومسلم کشمکش کے مسئلہ کے خاتمہ کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دیا۔حضور نے ہندوؤں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ :۔"ہند و صاحبان اور آریہ صاحبان تیار ہوں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوخدا کا سچا نبی مان لیں اور آئندہ تو ہین اور تکذیب چھوڑ دیں تو میں سب سے پہلے اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے کو تیار ہوں کہ ہم احمدی سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے اور وید اور رشیوں کا تعظیم اور محبت سے نام لیں گے اور اگر ایسا نہ کریں گے تو ایک بڑی