ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 80 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 80

80 عشق رسول کے حوالہ سے اپنوں کے تاثرات حضرت مرزا سلطان احمد صاحب اپنے احمدی ہونے سے قبل اپنے والد محترم حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے فرماتے ہیں۔ایک بات میں نے والد صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود ) میں خاص طور پر دیکھی ہے وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف والد صاحب ذراسی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے اگر کوئی شخص آنحضرت کی شان کے خلاف ذراسی بات بھی کہتا تھا تو والد صاحب کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور غصے سے آنکھیں متغیر ہونے لگتی تھیں اور فوراً ایسی مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو والد صاحب کو عشق تھا۔ایسا عشق میں نے کسی شخص میں نہیں دیکھا۔" حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم نے ایک بار آپ کے اخلاق و اوصاف اور شمائل پر ایک جامع تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 578-579) مضمون تحریر فرمایا۔اس کے اخیر پر آپ فرماتے ہیں:۔میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ میں نے آپ سے بہتر، آپ سے زیادہ خلیق، آپ سے زیادہ نیک ، آپ سے زیادہ بزرگ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق کو ئی شخص نہیں دیکھا۔آپ ایک نور تھے جو انسانوں کے لئے دنیا پر ظاہر ہوا اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی اور اسے شاداب کر گئی۔اگر حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی کہ "كَانَ خُلقه القران " تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت اسی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ كَانَ خُلُقَهُ حُبِّ مُحَمّدٍ وَّ اتِّبَاعَهُ - عَلَيْهِ الصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 597) ایک دفعہ بالکل گھریلو ماحول کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود کی طبیعت کچھ نا ساز تھی اور آپ گھر میں چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا اور حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی پاس بیٹھے تھے کہ حج کا ذکر شروع ہو گیا۔حضرت نانا جان نے کوئی ایسی بات کہی کہ اب تو حج کے لئے سفر اور رستے وغیرہ کی سہولت پیدا ہو رہی ہے حج کو چلنا چاہئے۔اس وقت زیارت حرمین شریفین کے تصور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور آپ اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔حضرت نانا جان کی بات سن کر فرمایا " یہ تو ٹھیک ہے اور ہماری بھی دلی خواہش ہے مگر میں سوچا کرتا ہوں کہ کیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کو دیکھ بھی سکوں گا۔" یہ ایک خالصتہ گھریلو ماحول کی بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں اس اتھاہ سمندر کی طغیانی بریں کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں جو عشق رسول کے متعلق حضرت مسیح موعود کے قلب صافی میں موجزن تھیں۔حج کی کس