ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 82 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 82

82 رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی ہند و صاحبان کی خدمت میں ادا کریں گے اور اگر ہند و صاحبان دل سے ہمارے ساتھ صفائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ایسا ہی اقرار لکھ کر اس پر دستخط کر دیں اور اس کا مضمون بھی یہ ہوگا کہ ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھتے ہیں اور آئندہ آپ کو ادب اور تعظیم کے ساتھ یاد کریں گے جیسا کہ ایک ماننے والے کے مناسب حال ہے اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی احمدی سلسلہ کے پیش رو کی خدمت میں پیش کریں گے۔" پیغام صلح از روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 455) کوئی دشمن کہہ سکتا ہے کہ مرزا صاحب اپنی آخری عمر میں غیر اقوام کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ایسا ہرگز نہیں۔آپ نے اس سمجھوتہ والی عبارت کے معابعد بہت ہی جلالی الفاظ میں فرمایا۔ان الفاظ کو جماعت احمدیہ کی ناموس رسالت کی خاطر کاوشوں کے خلاصہ کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔" میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے، نا پاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے۔" پیغام صلح از روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 459) آپ کے وصال پر غیروں کی طرف سے اخبار "وکیل امرتسر آپ کی اسلامی خدمات کا اقرار مسلمان اخبارات میں سب سے زور دار مؤثر اور حقیقت افروز ریویو اخبار "وکیل" امرتسر کا تھا جو مولانا ابوالکلام آزاد کے قلم سے نکلا۔آپ نے لکھا۔" ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔۔۔۔اس کی وفات) کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تا کہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا۔آئندہ بھی جاری رہے۔۔۔مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں