صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 69 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 69

صحیح البخاری جلد ۱۳ ५१ ۶۷ - كتاب النكاح لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ بِهِ الرَّجُلُ بیٹا ہے۔ جس شخص کا نام لینا چاہتی اس کا نام لے لیتی وَنِكَاحُ الرَّابِعِ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ تو پھر اس کا لڑکا اسی مرد کی طرف منسوب ہوتا اور فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لَا تَمْنَعُ مَنْ وہ مرد اس سے انکار نہ کر سکتا۔ ایک چوتھا نکاح یہ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا كُنَّ يَنْصِبْنَ تھا کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہوتے اور وہ ایک عورت عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُونُ عَلَمًا کے پاس آتے اور وہ جو بھی اس کے پاس آتے ان فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ فَإِذَا سے انکار نہ کرتی۔ اور یہی وہ کنچنیاں ہیں جو اپنے حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ وَوَضَعَتْ حَمْلَهَا دروازوں پر جھنڈے گاڑ دیا کرتی تھیں جو پہنچاننے جُمِعُوا لَهَا وَدَعَوْا لَهُمُ الْقَافَةَ ثُمَّ کا نشان ہوتے۔ جو مرد بھی ان کے پاس جانا چاہتا أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ فَالْتَاطَتْهُ " ان کے پاس جاتا اور جب ان میں سے کوئی عورت حاملہ ہوتی اور وہ بچہ جنتی۔ وہ سب اس کے لئے بِهِ وَدُعِيَ ابْنَهُ لَا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ۔ اکٹھے کئے جاتے اور ان کے لئے قیافہ شناس بلاتے فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ پھر وہ اس کا بچہ اسی کے حوالے کرتے جس کے وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ مشابہ دیکھتے۔ وہ اسی سے مل جاتا اور اسی کا بیٹا كُلَّهُ إِلَّا نِكَاحَ النَّاسِ الْيَوْمَ۔ کہلاتا ، وہ اس سے انکار نہ کر سکتا۔ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق کے ساتھ مبعوث ہوئے تو انہوں نے جاہلیت کے سب نکاح ملیا میٹ کر دیئے سوائے اس نکاح کے جو آج کل لوگ کرتے ہیں۔ ٥١٢٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ۵۱۲۸ : يحي بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وکیچ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ وَ مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَبِ فِي يَثْمَى سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے النِّسَاءِ التِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ حضرت عائشہ سے روایت کی۔ (یہ جو آیت ہے:) 1- فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں تمتنع من“ ہے۔ (فتح الباری جزء ۹ حاشیہ صفحہ ۲۲۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ کشمیینی کے نسخہ میہنی کے نسخہ کے مطابق یہاں فالتاظ“ ہے۔ الفاظ ہے۔ (فتح الباری جے ری جزء ۹ صفحه ۲۳۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔