صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 68
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۸ ۶۷ - كتاب النكاح نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ ایک نکاح وہی ہے جو آج کل لوگ کرتے ہیں۔ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ أَوْ ابْنَتَهُ فَيُصْدِقُهَا ایک مرد دوسرے مرد سے اس عورت کے متعلق ثُمَّ يَنْكِحُهَا ۔ وَنِكَاحَ آخَرُ كَانَ جو اس کی سر پرستی میں ہو یا اس کی بیٹی کے متعلق الرَّجُلُ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ يَغام نکاح بھیجتا ہے اور پھر وہ اس کا مہر ٹھہرا کر طَمْئِهَا أَرْسِلِي إِلَى فُلَانٍ فَاسْتَبْضِعِي اس کا نکاح کر دیتا ہے۔ اور ایک اور نکاح تھا۔ آدمی اپنی بیوی سے جب وہ حیض سے پاک ہوتی مِنْهُ وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا وَلَا يَمَسُّهَا أَبَدًا یوں کہتا کہ فلاں کو بلا بھیجو اور اس سے فائدہ اُٹھاؤ حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ اور اس کا خاوند اس سے الگ رہتا اور اس کو قطعاً الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ فَإِذَا تَبَيَّنَ نہ چھو تا جب تک کہ اس شخص سے اس کا حمل ظاہر حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ نہ ہو جاتا جس سے اس نے فائدہ اٹھایا تھا۔ جب وَإِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ اس کا حمل نمایاں ہو جاتا تو اس کا خاوند بھی اگر وہ الْوَلَدِ فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ نِكَاحَ چاہتا تو اس سے مباشرت کرتا اور وہ اپنی عورت الاسْتِبْضَاعِ وَنِكَاحَ آخَرُ يَجْتَمِعُ سے محض اس خواہش کی وجہ سے الگ رہتا کہ تابچہ الرَّهْطُ مَا دُونَ الْعَشَرَةِ فَيَدْخُلُونَ شریف عمدہ پیدا ہو۔ تو یہ نکاح نکاح استبضاع تھا۔ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا فَإِذَا اور ایک اور نکاح تھا کہ کچھ آدمی جو دس سے کم حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ وَمَرَّ عَلَيْهَا} ہوتے، اکٹھے ہوتے ، وہ عورت کے پاس آتے اور ان میں سے ہر ایک اس سے مباشرت کرتا۔ جب لَيَالٍ بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ وہ حاملہ ہو جاتی اور بچہ جنتی اور بچہ جننے کے بعد اس إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِّنْهُمْ أَنْ پر کئی راتیں گزر جاتیں تو ان کو بلا بھیجتی اور ان میں يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا تَقُولُ سے کوئی شخص بھی آنے سے انکار نہ کر سکتا تھا۔ لَهُمْ قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ جب اس کے پاس اکٹھے ہوتے تو وہ ان سے کہتی: وَقَدْ وَلَدْتُ فَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلَانُ تُسَمِّي تم اچھی طرح جانتے ہو اس فعل کو جو تم سے ہوا مَنْ أَحَبَّتْ بِاسْمِهِ فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا اور اب میں نے بچہ جنا ہے۔ اے فلاں ! یہ تمہارا ا یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء 9 حاشیہ صفحہ ۲۲۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔