صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 67
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۷ ۶۷ - كتاب النكاح اور کوئی شخص وہاں نہ تھا۔ اور نیز یہ کہ حضرت صاحب ان لڑکیوں کو کسی احسن طریق سے وہاں لائے تھے۔ اور پھر ان کو مناسب طریق پر رخصت کر دیا تھا جس سے ان کو کچھ معلوم نہیں ہوا۔ مگر ان میں سے کسی کے ساتھ میاں ظفر احمد صاحب کارشتہ نہیں ہوا۔ یہ مدت کی بات ہے ۔ “ (سیرت المہدی جلد اول، صفحه ۲۴۱،۲۴۰) باب ٣٦: مَنْ قَالَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيّ جس نے یہ کہا کہ ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى: وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا طَلَقْتُمُ النِّسَاء ۔۔۔ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ یعنی اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (البقرۃ:۲۳۳) کو پورا کر لیں تو تم انہیں مت روکو۔ فَدَخَلَ فِيهِ الثَّيِّبُ وَكَذَلِكَ الْبِكْرُ اس میں شیبہ بھی اور باکرہ بھی آگئی اور فرمایا: ولا وَقَالَ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا یعنی مشرکوں کو (البقرة: ۲۲۲) وَقَالَ : وَ انْكِحُوا الآیا می نکاح میں نہ دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ اور مِنكُم (النور : ٣٣) فرمایا: وَ انْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ اور جو تم میں سے بیوہ ہوں ان کا نکاح کرا دو۔ ٥١٢٧: قَالَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ۵۱۲۷ : يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ۔ ح (عبد اللہ ) ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا يونس اسے روایت کی۔ (امام بخاری نے کہا:) احمد بن صالح نے بھی ہم سے بیان کیا کہ عنبسہ (بن عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ خالد ) نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ابن شہاب سے قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا، کہا: عروہ بن زبیر عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النِّكَاحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وسلم کی زوجہ نے ان سے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت كَانَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ فَنِكَاحٌ مِنْهَا میں نکاح چار طرح سے ہوا کرتا تھا۔ ان میں سے