صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 66 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 66

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۶ ۶۷ - كتاب النكاح قَالَ نَعَمْ۔قَالَ اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا مُجھے فلاں سورۃ یاد ہے اور فلاں سورۃ یاد ہے اور بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ۔فلاں سورۃ یاد ہے۔اس نے ان کو شمار کیا۔آپ نے پوچھا: کیا تم ان کو زبانی پڑھتے ہو ؟ اس نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: جاؤ میں نے یہ عورت تمہارے قبضہ میں دے دی ان سورتوں کے عوض میں جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔أطرافه ،٥٠٣٠، ٥٠٨ ،٥٠۲۹ ،۲۳۱۰ -٥٨٧١،٥١٥٠، ٧٤١٧ ٥١٤، ٥١٤۱ ،۰۱۳۵ ،۰۱۳۲ ،۰۱۲۱ " ح النَّظَرُ إِلَى الْمَرْأَةِ قبل التزويج: یعنی شادی کرنے سے پہلے عورت کو دیکھنا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ مدت کی بات ہے کہ جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہو گئی اور اُن کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے اُن سے کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں اُن کو میں لاتا ہوں آپ اُن کو دیکھ لیں۔پھر اُن میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جاوے۔چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دولڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا۔اور پھر اندر آکر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں۔چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے اُن کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے اُن کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ تمہیں کون سی لڑکی پسند ہے۔وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے۔اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا۔پھر آپ خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے۔پھر فرمایا: جس شخص کا چہرہ لمبا ہو تا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نماہو جاتا ہے لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔میاں عبد اللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت حضرت صاحب اور میاں ظفر احمد صاحب اور میرے سوا