صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 63
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۳ ۶۷ - كتاب النكاح التَّزْوِيجَ وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ يُيَسَّرُ لِي امْرَأَةٌ روایت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کہتے تھے: (اس صَالِحَةٌ۔ وَقَالَ الْقَاسِمُ يَقُولُ إِنَّكِ سے یہ مراد ہے کہ عورت سے کہے:) میں شادی عَلَيَّ كَرِيمَةٌ وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنَّ کرنا چاہتا ہوں۔ (یا یہ کہے کہ ) میں یہ خواہش رکھتا الله لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا أَوْ نَحْوَ هَذَا۔ ہوں کہ مجھے کوئی نیک عورت مل جائے۔ اور قاسم وَقَالَ عَطَاءٌ يُعَرِّضُ وَلَا يَبُوحُ يَقُولُ (بن محمد) نے کہا: (اس سے یہ مراد ہے کہ ) کوئی یہ کہے کہ تم مجھے اچھی معلوم ہوتی ہو ( یا کہے) میں إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي وَأَنْتِ بِحَمْدِ اللهِ تمہیں ہیں بہت پسند کرتا ہوں ( یا یوں کہے) اللہ تم نَافِقَةٌ۔ وَتَقُولُ هِيَ قَدْ أَسْمَعُ مَا سے اچھا ہی سلوک کرنے والا ہے یا اسی طرح کے تَقُولُ وَلَا تَعِدُ شَيْئًا وَلَا يُوَاعِدُ وَلِيُّهَا اور کلمے۔ اور عطاء بن ابی رباح) نے کہا: (اس بِغَيْرِ عِلْمِهَا۔ وَإِنْ وَاعَدَتْ رَجُلًا فِي سے یہ مراد ہے کہ) اشارہ بات کرے اور کھول عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقَ کر بیان نہ کرے۔ مثلاً کہے: مجھے بھی (نکاح کرنے بَيْنَهُمَا۔ وَقَالَ الْحَسَنُ لَا تُوَاعِدُ وهُنَّ کی ضرورت ہے یا تمہیں خوشی ہو اور بحمد الله سرا (البقرة: ٢٣٦) الزِّنَا ۔ وَيُذْكَرُ عَنِ تمہاری تو بہت ضرورت ہے۔ اور وہ عورت یہ ابْنِ عَبَّاسٍ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَةَ کہے: جو تم کہتے ہو میں بھی سنتی ہوں اور کچھ وعدہ نہ (البقرة: ٢٣٦) انْقَضاءُ الْعِدَّةِ۔ کرے ہے اور اس کا سر پرست بھی بغیر اس کے علم کے کسی سے وعدہ نہ کرے۔ اور اگر اس نے کسی شخص سے اپنی عدت کے اندر وعدہ کر لیا پھر اس شخص نے اس عورت سے بعد میں نکاح کر لیا تو انہیں جدا نہ کیا جائے۔ اور حسن (بصری) نے کہا: لا ابن تُوَاعِدُ وهُنَّ سِرًّا سے زنا مراد ہے۔ اور حضرت عباس سے مذکور ہے کہ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَهُ سے مراد یہ ہے کہ (اس کی) عدت گزر جائے۔ ا فتح الباری مطبوعه انصاریہ میں اس جگہ " تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۹ حاشیہ صفحہ ۲۲۴)