صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 62
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۲ ۶۷ - كتاب النكاح عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ نَاكِحْ کو خبر دی کہ حضرت ام حبیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ علیہ وسلم سے کہا: ہم تو یہ باتیں کر رہے تھے کہ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَلَى أُمِّ سَلَمَةَ؟ دُرّه بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں۔لَوْ لَمْ أَنْكِحْ أُمَّ سَلَمَةَ مَا حَلَّتْ لِي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اُم سلمہ کے ہوتے ہوئے؟ اگر میں نے ام سلمہ سے نکاح إِنَّ أَبَاهَا أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ۔نہ بھی کیا ہو تا تب بھی وہ میرے لئے جائز نہ تھی۔اس کا باپ تو میر ادودھ بھائی ہے۔أطرافه: ٥١٠١، ٥١٠٦، ۰۱۰۷، ٥۳۷۲۔بَاب ٣٤ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ اكننتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللهُ الْآيَةَ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ حَلِيمٌ (البقرة: ٢٣٦) اللہ عز وجل کا فرمانا: یعنی اور عورتوں سے نکاح کی درخواست کے متعلق جو بات تم اشارة (ان سے) کہو یا اپنے دلوں میں رکھو اس پر تمہیں کوئی گناہ نہیں۔اللہ جانتا ہے کہ تمہیں ضرور اُن کا خیال آئے گا لیکن تم اُن سے خفیہ طور پر (کوئی) معاہدہ نہ کر لو۔ہاں یہ (اجازت ہے) کہ تم اُن سے کوئی مناسب بات کہہ دو اور جب تک (عدت کا) حکم اپنی میعاد کو (نہ) پہنچ جائے (اس وقت تک) تم نکاح باندھنے کا پختہ ارادہ نہ کرو۔اور جان لو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ (بھی) ہے اللہ اسے جانتا ہے۔پس تم اس (بات) سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بُردبار ہے۔اكنَنْتُمْ أَضْمَرْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ۔وَكُلُّ النَنْتُم یعنی تم اپنے نفسوں میں چھپائے رکھو۔شَيْءَ صُنْتَهُ وَأَضْمَرْتَهُ فَهُوَ مَكْنُونٌ اور ہر وہ چیز جس کو تم محفوظ رکھو اور چھپائے رکھو تو اس کو مَكْنُون کہتے ہیں۔٥١٢٤ : وَقَالَ لِي طَلْقَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ :۵۱۲۴ اور مجھے طلق ( بن غنام) نے کہا کہ ہمیں عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ مُّجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ زائده بن قدامہ) نے بتایا۔انہوں نے منصور عَبَّاسٍ فِيمَا عَرَضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ (بن معتمر) سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے النِّسَاء (البقرة: ٢٣٦) يَقُولُ إِنِّي أُرِيدُ حضرت ابن عباس سے فِیمَا عَرَضْتُمْ کے متعلق