صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 60
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۰ ۶۷ - كتاب النكاح كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُعَدِّدُهَا - یا (کہا : ) اس کو بلا کر ( آپ کے پاس لائے۔آپ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اس سے پوچھا: تمہیں قرآن سے کیا کچھ یاد أَمْلَكْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ۔ہے۔اس نے چند سورتوں کو گن کر کہا: مجھے فلاں فلاں سورۃ یاد ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تمہیں یہ قبضے میں دے دی ان سورتوں کے بدلے میں جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔أطرافه ١٤، ٥١٤٩۱ ،۰۱۳۵ ،۰۱۳۲ ،۰۱٥٠، ٢٦۸۷ ،۵۰۳۰ ،۵۰۲۹ ،۲۳۱۰ -٥٨، ٧٤١٧۷۱ ،۵۱۵۰ بَابِ ۳۳: عَرْضُ الْإِنْسَانِ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ عَلَى أَهْلِ الْخَيْرِ آدمی کا اپنی بیٹی یا اپنی بہن کو نیک آدمیوں کے سامنے پیش کرنا ٥١٢٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۵۱۲۲: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ که ابراهیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبد اللہ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے سنا کہ جب حضرت حفصہ بنت عمره خنیس بن حذافہ سہمی کے فوت ہونے تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ حُنَيْسِ سے ہودہ ہو گئیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بْنِ حُدَافَةَ السَّهْمِيّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صحابہ میں سے تھے اور مدینہ میں فوت ہو گئے تو حضرت عمر بن خطاب کہتے تھے کہ میں عثمان بن وَسَلَّمَ فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ - فَقَالَ عُمَرُ عفان کے پاس آیا اور میں نے حفصہ (کارشتہ ) ان بْنُ الْخَطَّابِ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کے سامنے پیش کی۔انہوں نے کہا: میں اپنے متعلق فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقَالَ سَأَنْظُرُ غور کروں گا۔میں کئی رات انتظار کرتارہا پھر اس فِي أَمْرِي فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ کے بعد وہ مجھے ملے اور کہنے لگے مجھے یہی مناسب