صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 58
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۸ ۶۷ - كتاب النكاح اکثر قوموں میں متعہ کی رسم تھی یعنی یہ کہ ایک وقت خاص تک نکاح کرنا پھر طلاق دے دینا اور اس رسم کے پھیلانے والے اسباب میں سے ایک یہ بھی سبب تھا کہ جو لوگ لشکروں میں منسلک ہو کر دوسرے ملکوں میں جاتے تھے یا بطریق تجارت ایک مدت تک دوسرے ملک میں رہتے تھے ان کو موقت نکاح یعنی متعہ کی ضرورت پڑتی تھی اور کبھی یہ بھی باعث ہو تا کہ غیر ملک کی عورتیں پہلے سے بتلادیتی تھیں کہ وہ ساتھ جانے پر راضی نہیں اس لئے اسی نیت سے نکاح ہوتا تھا کہ فلاں تاریخ طلاق دی جائے گی۔پس یہ سچ ہے کہ ایک دفعہ یا دو دفعہ اس قدیم رسم پر بعض مسلمانوں نے بھی عمل کیا۔مگر وحی اور الہام سے نہیں بلکہ جو قوم میں پرانی رسم تھی معمولی طور پر اس پر عمل ہو گیا۔لیکن متعہ میں بجز اس کے اور کوئی بات نہیں کہ وہ ایک تاریخ مقررہ تک نکاح ہوتا ہے اور وحی الہی نے آخر اس کو حرام کر دیا۔“ نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۵۰) بَاب ۳۲ : عَرْضُ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِحِ عورت کا اپنے تئیں کسی نیک شخص پر پیش کرنا ٥١٢٠: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۵۱۲۰ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مَرْحُومُ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتا کیا کہ مرحوم ( بن عبد العزیز بصری) نے ہمیں الْبُنَانِيَّ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ بَتایا۔انہوں نے کہا: میں نے ثابت بنانی سے سنا۔ابْنَةٌ لَهُ قَالَ أَنَسٌ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى وہ کہتے تھے: میں حضرت انس کے پاس تھا۔اس وقت اُن کے پاس ان کی ایک بیٹی بھی بیٹھی تھی۔رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت انس نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ اپنے تئیں آپ کو پیش اللَّهِ أَلَكَ بِي حَاجَةٌ؟ فَقَالَتْ بِنْتُ أَنَسٍ کرے۔کہنے لگی: یارسول اللہ ! کیا آپ کو میری مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا وَا سَوْأَتَاهُ۔قَالَ هِيَ ضرورت ہے ؟ حضرت انس کی بیٹی یہ سن کر بولی: خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي النَّبِيِّ صَلَّى الله کیا ہی بے حیاوہ تھی، کیا ہی عار کی بات کی ہے۔