صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 57
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۷ ۶۷ - كتاب النكاح سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔مُحَمَّدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَسَلَمَةَ انہوں نے کہا: عمرو بن دینار) نے حسن بن محمد بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَا كُنَّا فِي جَيْشِ فَأَتَانَا ( بن علی بن ابی طالب) سے روایت کی۔انہوں رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت سلمہ بن فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا اکوشی سے روایت کی۔ان دونوں نے کہا: ہم ایک فوج میں تھے۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایلچی ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: تمہیں اجازت دے دی گئی ہے۔اس لئے تم متعہ کر لو۔فَاسْتَمْتِعُوا۔٥١١٩: وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ۵۱۱۹: اور ابن ابی ذئب نے کہا: مجھے ایاس بن سلمہ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ بن اکوع نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله بتایا۔ان کے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ تَوَافَقَا سے روایت کی کہ جو مرد اور عورت آپس میں متفق فَعِشْرَةُ مَا بَيْنَهُمَا ثَلَاثُ لَيَالٍ فَإِنْ ہو جائیں تو وہ تین دن رات آپس میں مل کر رہیں۔اگر وہ اس سے زیادہ رہنا چاہیں تو ر ہیں اور اگر ایک أَحَبًّا أَنْ يَّتَزَايَدَا أَوْ يَتَتَارَكًا تَتَارَكًا۔دوسرے سے الگ ہونا چاہیں تو الگ ہو جائیں۔میں فَمَا أَدْرِي أَشَيْءٌ كَانَ لَنَا خَاصَّةً أَمْ نہیں جانتا کہ یہ ایسی اجازت تھی کہ ہمارے لئے لِلنَّاسِ عَامَّةٌ۔خاص تھی یا تمام لوگوں کے لئے عام ہے۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَدْ بَيَّنَهُ عَلِيٌّ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: اور حضرت علی عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اس کو واضح کیا کہ اجازت منسوخ ہے۔تشریح : نَهى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ أَخِيرًا: آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا متعہ کے نکاح سے روک دینا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مَنْسُوخ۔”نادان عیسائیوں کو معلوم نہیں کہ اسلام نے متعہ کو رواج نہیں دیا۔بلکہ جہاں تک ممکن تھا اس کو دنیا میں سے گھٹایا۔اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ دنیا کی