صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 54
صحیح البخاری جلد ۱۳ ولد ۶۷ - كتاب النكاح باب ۲۸ : الشَّغَارُ شعار ٥١١٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۱۱۲ : عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ سے ، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نے شعار صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الشِّغَارِ۔ وَالشَّغَارُ أَنْ يُزَوّجَ الرَّجُلُ سے روکا۔ اور شغار یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ بی کو اس شرط پر بیاہ دے کہ دوسرا اپنی بیٹی کو اُس سے بیاہ دے۔ ان کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ۔ طرفه: ٦٩٦٠ - تشريح : الشعار : شفار حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام نے اس قسم کی شادی کو نا پسند کیا ہے کہ ایک شخص اپنی لڑکی دوسرے شخص کے لڑکے کو اس شرط پر دے کہ اس کے بدلہ میں وہ بھی اپنی لڑکی اس کے لڑکے کو دے۔ لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے اگر طرفین کے فیصلے الگ الگ اوقات میں ہوئے ہوں اور ایک دوسرے کو لڑکی دینے کی شرط پر نہ ہوئے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔“ (خطبات محمود، خطبہ نکاح فرموده ۲۷، دسمبر ۱۹۱۷، جلد ۳ صفحه ۲۸) بَاب ۲۹ : هَلْ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِأَحَدٍ؟ کیا عورت کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے تئیں کسی کو ہبہ کر دے ٥١١٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ۵/۱۳: محمد بن سلام نے ہمیں بتایا کہ (محمد) بن حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ فضیل نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام ( بن عروہ) نے أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔