صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 53 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 53

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۳ ۶۷ - كتاب النكاح عَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا فَنُرَى علیہ وسلم نے اس سے روکا کہ کسی عورت سے اس کی خَالَةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ۔طرفه: ٥۱۰۹۔پھوپھی کے ہوتے ہوئے اور کسی عورت سے اس کی خالہ کے ہوتے ہوئے نکاح کیا جائے۔(زہری کہتے تھے کہ) ہم اس عورت کے باپ کی خالہ کو بھی اسی درجہ پہ سمجھتے ہیں۔٥١١١ : لأَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عَنْ ۵۱۱۱: کیونکہ عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت عَائِشَةَ قَالَتْ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا کرتے ہوئے مجھے بتایا۔وہ کہتی تھیں: رضاعت کی وجہ سے وہی رشتے حرام سمجھو جو نسب کی وجہ سے يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔حرام ہوتے ہیں۔أطرافه: ٢٦٤٤، ٤٧٩٦ ، ۵۱۰۳، ٥۲۳۹، ٦١٥٦- تشريح : مَا يَحِلُّ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا يَخرُه : یعنی جن عورتوں سے شادی کرنا جائز ہے اور جن سے ممانعت ہے۔مذکورہ روایات میں بدکاری وغیرہ کے نتیجہ میں بعض جائز رشتوں کی حرمت کے جو اقوال ہیں وہ ان علماء کی ذاتی رائے ہے۔نیز ان روایات کے غیر ثقہ اور غیر مستند ہونے کا ذکر انہی روایات میں موجود ہے۔امام بخاری ان اقوال کو لا کر ان روایات کے سقم کو ظاہر کر کے ان کا ر ڈ کرنا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ شریعت میں کہیں یہ بیان نہیں ہے کہ کسی ناجائز کام کے نتیجہ میں کوئی جائز کام بھی منع ہو جاتا ہے۔سورہ نساء آیات ۲۳ تا ۲۵ میں اُن عورتوں کا ذکر ہے جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ان آیات کی تفسیر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ان عورتوں کے سوا جو ذکر ہو چکیں باقی سب عورتیں تم پر حلال ہیں مگر اس شرط سے کہ وہ تعلق صرف شہوت رانی کا ناجائز تعلق نہ ہو بلکہ نیک اور پاک مقاصد کی بنا پر نکاح ہو۔۔۔اور یہ محض خدا کا حق ہے کہ جن چیزوں کو چاہے حلال کرے اور جن چیزوں کو چاہے حرام کرے اور وہی اپنے مصالح کو خوب جانتا ہے۔“ (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۵۱)