صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 51 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 51

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۱ ۶۷ - كتاب النكاح باب ٢٦: وَاَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ (النساء : ٢٤) یعنی یہ (بھی حرام ہے ) کہ تم دو بہنوں کو اکٹھا کر وسوائے اس کے کہ جو گزر چکا ٥١٠٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۱۰۷ عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بیان کیا کہ لیث ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْنَبَ نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے انہیں خبر دی کہ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ انْكِحْ أُخْتِي حضرت زینب بنت ابی سلمہ نے ان کو بتایا کہ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ وَتُحِبّينَ؟ قُلْتُ حضرت ام حبیبہ کہتی تھیں، میں نے کہا: یارسول اللہ ! آپ میری بہن ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ کرلیں۔آپ نے فرمایا: کیا تم پسند کرو گی ؟ میں شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أَخْتِي فَقَالَ النَّبِيُّ نے کہا: ہاں میں اکیلی تو رہنے کی نہیں اور بھلائی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ذَلِكِ لَا میں جو میری شریک ہو مجھے زیادہ پسند ہے کہ وہ يَحِلُّ لِي۔قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ فَوَاللَّهِ میری بہن ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرِّةَ میرے لئے جائز نہیں۔میں نے کہا: یارسول اللہ ! بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ؟ قَالَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟ اللہ کی قسم ہم آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ آپ فَقُلْتُ نَعَمْ۔قَالَ فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ وَره بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔آپ فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لَابْنَةُ نے فرمایا: ام سلمہ کی بیٹی سے ؟ میں نے کہا: ہاں۔أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم اگر وہ میری پرورش میں ثُوَيْبَةُ۔فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا نہ ہوتی تب بھی میرے لئے جائز نہ تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ثویبہ نے مجھے اور أَخَوَاتِكُنَّ۔أطرافه: ٥١٠١، ٥١٠٦، ۵۱۲۳، ۵۳۷۲۔ابو سلمہ کو دودھ پلایا تھا۔اس لئے اپنی بیٹیاں مجھے نہ پیش کیا کرو اور نہ اپنی بہنیں۔