صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 49
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۹ ۶۷ - كتاب النكاح بْنِ زَيْدٍ وَالْحَسَنِ وَبَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ اس پر حرام نہ ہو گی۔ اور ابو نصر سے بیان کیا جاتا تَحْرُمُ عَلَيْهِ۔ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس کو حرام قرار تَحْرُمُ عَلَيْهِ حَتَّى يُلْزِقَ بِالْأَرْضِ يَعْنِي دیا۔ اور یہ ابو نصر ایسا شخص ہے اس کے متعلق حَتَّى يُجَامِعَ وَجَوْزَهُ ابْنُ الْمُسَيَّبِ معلوم نہیں؟ نہیں ہوا کہ اس نے یہ روایت حضرت ابن عباس سے سنی۔ اور حضرت عمران بن حصین اور وَعُرْوَةُ وَالزُّهْرِيُّ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ جابر بن زید اور حسن (بصری) اور بعض اہل عراق عَلِيٌّ لَا يَحْرُمُ وَهَذَا مُرْسَلٌ۔ سے مروی ہے کہ وہ اس پر حرام ہو جائے گی۔ اور حضرت ابوہریرہ نے کہا کہ جب تک اس کو زمین پر چت نہ لگادے وہ حرام نہ ہوگی۔ اور (سعید) بن مسیب، عروہ اور زہری نے اس کو جائز قرار دیا۔ اور زہری نے کہا : حضرت علی کہتے تھے کہ باب ٢٥ حرام نہ ہو گی۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ وَ رَبَّا بِكُمُ الَّتِي فِي حُجُورِكُم مِّنْ نِسَائِكُمُ الَّتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ( النساء: ٢٤) اور تمہاری ربائب (یعنی سوتیلی لڑکیاں) جو تمہاری پرورش میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے ہیں جن سے تم خلوت کر چکے ہو وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الدُّخُولُ وَالْمَسِيسُ حضرت ابن عباس نے کہا کہ دخول اور مسمیں وَاللَّمَاسُ هُوَ الْجِمَاعُ وَمَنْ قَالَ بَنَاتُ اور لماس ان سب سے مراد جماع ہے۔ اور جس وَلَدِهَا هُنَّ مِنْ بَنَاتِهَا فِي التَّحْرِيمِ لِقَوْلِ نے یہ کہا: پوتیاں بھی حرمت کے اعتبار سے اپنی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ حَبِيبَةَ لڑکیاں ہی ہیں، اس لئے کہ نبی صلی الہ ہم نے حضرت لَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ اُم حبیبہ سے فرمایا: تم مجھ پر اپنی بیٹیاں نہ پیش کیا کرو وَكَذَلِكَ حَلَائِلُ وَلَدِ الْأَبْنَاءِ هُنَّ حَلَائِلُ اور نہ ہی اپنی بہنیں، اور ایسا ہی پوتوں کی بیویاں، الْأَبْنَاءِ۔ وَهَلْ تُسَمَّى الرَّبِيبَةَ وَإِنْ لَّمْ وہ بھی اپنی بہوئیں ہی ہیں۔ اور کیا اس لڑکی کو ربیبہ رم