صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 48 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 48

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۸ ۶۷ - كتاب النكاح وَلَيْسَ فِيهِ تَحْرِيمٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَ أُحِلَّ لكم ما وراء ذلِكُمْ (النساء : ٢٥)۔وَقَالَ بِهِ وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لَا علی کی بیٹی اور حضرت علی کی بیوی دونوں کو بَأْسَ بِهِ۔وَجَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ ایک وقت میں اپنے نکاح میں رکھا۔اور ابن سیرین نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔اور حسن (بصری) الْحَسَنِ بْنِ عَلِقٍ بَيْنَ ابْنَتَيْ عَةٍ فِي لَيْلَةٍ وَكَرِهَهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدِ لِلْقَطِيعَةِ نے ایک دفعہ اسے بُرا منایا اور پھر کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔اور حسن بن حسن بن علی نے ایک ہی رات میں اپنے چا کی دو بیٹیوں کے سے شادی کی۔اور جابر بن زید نے اسے بُرا منایا، اس لئے کہ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بہنوں میں ) ناچاقی ہوتی ہے، اور اس میں حرمت بِأَخْتِ امْرَأَتِهِ لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ أُحِلَّ لَكُمْ۔۔۔وَيُرْوَى عَنْ يَحْيَى الْكِنْدِي عَنِ یعنی ان کے سوا تمہارے لئے حلال کی گئیں۔اور الشَّعْبِيِّ وأَبِي جَعْفَرٍ فِيمَنْ يُلْعَبُ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا: اگر اپنی بِالصَّبِيِّ إِنْ أَدْخَلَهُ فِيهِ فَلَا يَتَزَوَّجَنَّ بیوی کی بہن سے زنا کرے تو اس کی بیوی اس پر أُمَّهُ۔وَيَحْيَى هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ وَلَمْ حرام نہ ہوگی۔اور یچی ( بن قیس) کندی سے مروی ہے کہ انہوں نے شعی اور ابو جعفر سے اس شخص يُتَابَعْ عَلَيْهِ۔وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ کے متعلق روایت کی جو اغلام باز ہو۔اگر وہ اس کے عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بِهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ ساتھ پورے طور پر بدکاری کرے تو اس کی ماں امْرَأَتُهُ۔وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي نَصْرٍ أَنَّ ابْنَ سے نکاح نہ کرے۔اور یہ یحی راوی غیر معروف عَبَّاسٍ حَرَّمَهُ وَأَبُو نَصْرٍ هَذَا لَمْ ہے، روایت میں کسی نے اس کی پیروی نہیں کی۔يُعْرَفْ بِسَمَاعِهِ مِنِ ابْنِ عَبَّاس اور عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا: اگر وَيُرْوَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرِ کسی نے اپنی خوشدامن سے زنا کیا تو اس کی بیوی حضرت عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب نے (حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی بیٹی) حضرت زینب اور حضرت علی کی بیوی) لیلیٰ بنت مسعود سے شادی کی تھی۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۹۴) حسن بن حسن بن علی نے اپنے دو چا محمد بن علی اور عمر بن علی کی بیٹیوں سے نکاح کیا تھا۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۹۴)