صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 45
صحیح البخاری جلد ۱۳ لده ۶۷ - كتاب النكاح ہے۔ مثلاً رضاعی ماں، رضاعی بہن، رضاعی نواسی، رضاعی پوتی، رضاعی بیٹی، رضاعی خالہ ، رضاعی پھو پھی وغیرہ۔ البتہ حرمت بر بنائے رضاعت صرف دودھ پینے والے تک محدود رہتی ہے اس کے بہن بھائی اس سے متاثر نہیں ہوتے۔ رضاعی رشتوں میں رضاعی ماں اور رضاعی بہنوں کی حرمت نص صریح کی بناء پر ہے۔ جیسا کہ فرمایا: وَأَمَّهُتُكُمُ الَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ (النساء:۲۴) یعنی تمہاری وہ مائیں بھی تم پر حرام ہیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری رضاعی بہنیں بھی۔ باقی رضاعی رشتوں کی حرمت نص حدیث پر مبنی ہے۔ حرمت رضاعت محض ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے واقع نہیں ہوتی۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلَا الرَّضْعَتَانِ، أَوِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ یعنی ایک دو مرتبہ یا ایک دو گھونٹ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ رضعة دراصل ایک مرتبہ سیر ہو کر دودھ پینے کو کہتے ہیں اور بچہ اوسطاً دن میں پانچ مرتبہ دودھ پیتا ہے اور ایک حدیث سے ثابت ہے کہ پانچ بار دودھ پینے سے حرمت رضاعت قائم ہوتی ہے۔ پس اگر کوئی بچہ کم از کم پانچ مرتبہ سیر ہو کر دودھ پیئے خواہ مختلف اوقات میں تو اس سے حرمت ثابت ہو جائے گی اس سے کم پر نہیں۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں : قَالَتْ عَائِشَةُ أُنزِلَ فِي القُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، فَنُسِحَ مِنْ ذَلِكَ خَمْسٌ ، وَصَارَ إِلَى خَمْسٍ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ کے یعنی پہلے دس بار دودھ پینے سے حرمت قائم ہونے کا حکم تھا پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور پانچ بار دودھ پینے سے حرمت ثابت ہونے کا قانون مقرر ہوا۔ اکثر ائمہ کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ رضاعت کی عمر یعنی دو سال کی عمر کے اندر اندر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی۔ وتی ہے۔ امام مالک، امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کا یہی مسلک ہے۔ آنحضرت صلی الم کا ارشاد ہے کہ رضاعت مجاعت سے ہوتی ہے اور مجاعت اس بھوک کو کہتے ہیں جو رضاعت کی عمر کے اندر بچہ دودھ کے لئے محسوس کرتا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَإِنما الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ ہے یعنی رضاعت اس عمر میں دودھ پینے کا نام ہے جبکہ بچہ کی بھوک دور کرنے کا زیادہ تر انحصار دودھ کی خوراک پر ہو۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ إِلَّا مَا فَتَقَ معاء في الثدي، وَكَانَ قَبْلَ القِطَامِ کے یعنی دودھ پینے۔ معنی دودھ پینے سے حرمت اس وقت قائم ہوئی ہے جبکہ دودھ سے ۔ بچہ پیٹ بھرے۔ یعنی دودھ اس کی خوراک ہے ہو اور دودھ چھڑانے کی عمر سے پہلے اس نے کسی دوسری عورت کا دودھ پیا ہو۔ الأمعاء اس بارہ میں صاحب بدایۃ المجتہد علامہ ابن رشد لکھتے ہیں: وَاتَّفَقُوا عَلَى أَنَّ الرَّضَاعَ يُحَرِّمُ فِي الْحَوْلَيْنِ۔ وَاخْتَلَفُوا فِي رَضَاعِ الكَبِيرِ فَقَالَ مَالِكٌ، وَأَبُو حَنِيفَةَ ، وَالشَّافِ وَالشَّافِعِيُّ وَكَافَّةُ الْفُقَهَاءِ: لَا يُحَرِّمُ رَضَاعُ الْكَبِيرِ یعنی علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بچہ اگر دو سال کی عمر میں دودھ پیئے تو تو رضہ رضاعت ثابت ہو ہوگی۔ گی اور بڑی عمر عمر کا کا بچہ بچہ اگر دودھ پیئے تو ا (سنن ابن ماجه، کتاب النكاح، بَابُ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَضَتَانِ، جزء اول صفحه ۶۲۴) (سنن الترمذي، أَبْوَابُ الرَّضَاعِ، بَابُ مَا جَاءَ لَا تُحَرِّمُ المَصَّةُ وَلَا الْمَصْتَانِ، جزء ۳ صفحه ۴۴۸) (صحیح البخاری، کتاب النكاح، باب مَنْ قَالَ لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ، روایت نمبر ۵۱۰۲) (سنن الترمذى، أَبْوَابُ الرَّضَاعِ، بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الرَّضَاعَةَ لَا تُحَرِّمُ إِلَّا فِي الصَّغَرِ، جزء ۳ صفحه ۴۵۰) د (بداية المجتهد، كتاب النكاح، الباب الثانى الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي مَانِعِ الرَّضَاعَ ، جزء ۳ صفحه ۲۰)