صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 44 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 44

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۴ ۶۷ - كتاب النكاح أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ (سختیانی) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عبد اللہ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عُقْبَةَ بن ابی ملیکہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھ سے بْنِ الْحَارِثِ قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عبید بن ابی مریم نے بیان کیا۔ وہ حضرت عقبہ بن عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ حارث سے روایت کرتے تھے۔ (عبد اللہ بن ابی قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةً ملیکہ نے) کہا: اور میں نے بھی یہ حدیث خود حضرت سَوْدَاءُ فَقَالَتْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ عقبہ سے سنی مگر عبید کی حدیث مجھے زیادہ یاد ہے۔ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ (حضرت عقبہ نے) کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی۔ اتنے میں ایک سیاہ فام عورت آئی، وہ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةً بِنْتَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا کہنے لگی: میں۔ : میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ یہ سن کر امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ لِي إِنِّي قَدْ میں نبی صلی علی ایم کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں نے أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ فَأَعْرَضَ فلال عورت سے جو فلاں کی بیٹی ہے شادی کی۔ پھر عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ قُلْتُ إِنَّهَا ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے كَاذِبَةٌ۔ قَالَ كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ مجھے کہا: میں نے تو تم دونوں کو دودھ پلایا تھا حالانکہ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ۔ وہ جھوٹی ہے۔ آپؐ نے مجھ سے منہ پھیر لیا۔ میں وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ آپؐ کے سامنے اس طرف سے آیا جس طرف وَالْوُسْطَى يَحْكِي أَيُّوبَ۔ آپ کا منہ تھا۔ میں نے کہا وہ جھوٹی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اب تم اس کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہو جبکہ وہ عورت یہ کہتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ اس عورت کو علیحدہ کر دو۔ اور اسماعیل نے اپنی دونوں انگلیوں یعنی سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کیا تھا۔ أطرافه: ۸۸، ۲٠٥۲ ، ٢٦٤٠، ٢٦٥٩ ، ٢٦٦٠- تشریح : شَهَادَةُ الْمُرْضِعَةِ یعنی دودھ پلانے والی کی شہادت۔ باب ۲۰ سے ۲۳ تک کی احادیث میں رضاعت کے نتیجہ میں قائم ہونے والے رشتوں اور ان کے تعلق سے دیگر مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں فقہ احمدیہ کا ایک مفید نوٹ درجہ ذیل ہے: ا وہ رشتے جو بر بنائے نسب حرام ہیں اگر وہی رشتے بر بنائے رضاعت قائم ہوں تو اُن سے بھی نکاح ابدی حرام