صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 46
صحیح البخاری جلد ۱۳ 3 ۶۷ - كتاب النكاح رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور اکثر فقہاء کا یہی مسلک ہے۔پس فقہاء کی ان تصریحات اور بیان کردہ روایات کی بناء پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی بچہ رضاعت کی عمر کے اور دوران پانچ مرتبہ پیٹ بھر کر دودھ پی لے تو حرمت ثابت ہو گی ورنہ نہیں۔دھ پینے والے لڑکے یا لڑکی کا رشتہ دودھ پلانے والی کی اولاد کے علاوہ اس کے یا اس کے خاوند کے دوسرے رشتہ داروں سے بھی نہیں ہو سکتا۔رضاعی ماں اور بہن کے علاوہ دیگر رضاعی رشتوں کی حرمت حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بناء پر ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَ مَا يَحْرُمُ مِن النَّسَبِ یعنی دودھ پینے والے پر رضاعت کی وجہ سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے ہوتے ہیں۔(ماخوذ از فقہ احمد یہ حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیه، صفحه ۳۳ تا ۳۵) بَاب ٢٤ : مَا يَحِلُّ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا يَحْرُمُ جن عورتوں سے شادی کرنا جائز ہے اور جن سے ممانعت ہے وَقَوْلُهُ تَعَالَى حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ أُمَّهُدٌ وبنتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمْتُكُمْ وَخُلْتُكُمْ عَلِيمًا حَكِيمًا۔وَبَنتُ الآخِ وَ بَنْتُ الْأُخْتِ إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ إِلَى إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔(النساء: ٢٤، ٢٥) (صحیح البخاری، کتاب الشهادات ، باب الشهادة على الأنساب، روایت نمبر ۲۶۴۵) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔اور تمہاری رضاعی بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور جن بیویوں سے تم ازدواجی تعلقات قائم کر چکے ہو اُن کی وہ پچھلگ بیٹیاں بھی تم پر حرام ہیں جو تمہارے گھر میں پلی ہوں۔ہاں اگر تم ان ( یعنی بیویوں) سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کر چکے ہو تو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں۔نیز تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں بھی جو تمہاری پشت سے ہوں۔نیز یہ بھی تم پر حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو اپنے نکاح میں اکٹھا کر و سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا۔یقینا اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور عورتوں میں سے وہ بھی تم پر حرام ہیں) جن کے خاوند موجود ہوں سوائے اُن کے جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوں۔یہ اللہ کی طرف سے تم پر فریضہ ہے اور تمہارے لئے حلال کر دیا گیا ہے جو اس کے علاوہ ہے کہ تم (انہیں) اپنانا چاہو ، اپنے اموال کے ذریعہ اپنے کردار کی حفاظت کرتے ہوئے نہ کہ بے حیائی اختیار کرتے ہوئے۔پس اُن کو اُن کے مہر فریضہ کے طور پر دو اس بنا پر کہ جو تم اُن سے استفادہ کر چکے ہو۔اور تم پر کوئی گناہ نہیں اس بارہ میں جو تم مہر مقرر ہونے کے بعد کسی تبدیلی پر باہم رضامند ہو جاؤ۔یقینا اللہ دائی علم رکھنے والا ( اور ) بہت حکمت والا ہے۔“