صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 43 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 43

صحیح البخاری جلد ۱۳ سم ۶۷ - كتاب النكاح كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَتْ إِنَّهُ أَخِي اور اُن کے پاس ایک شخص تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا فَقَالَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا کہ جیسے آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا جیسے آپ نے اسے الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ۔ طرفه: ٢٦٤٧ - رم برا منایا۔ حضرت عائشہ نے کہا: یہ میرا ( رضاعی) بھائی ہے۔ تو آپ نے فرمایا: دیکھ بھال لیا کروکون تمہارے بھائی ہیں۔ کیونکہ رضاعت وہی ہے جو بھوک دُور کرنے کی غرض سے ہو۔ بَاب ۲۲ : لَبَنُ الْفَحْلِ نر کا دودھ (رضاعی باپ کا رشتہ ) ٥١٠٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۱۰۳ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَفْلَحَ ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے ، عروہ نے حضرت أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا عائشہ سے روایت کی کہ افلح جو ابو العیس کے بھائی وَهُوَ عَمُهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ تھے آئے اور اُن سے اندر آنے کی اجازت مانگنے الْحِجَابُ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَلَمَّا لگے ، اور وہ اُن کے رضاعی چچا تھے۔ یہ حجاب نازل جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ میں نے اُن کو اجازت أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ دینے سے انکار انکار کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیم آئے تو آذَنَ لَهُ۔ صا میں نے آپ کو جو میں نے کیا تھا بتایا، آپ نے مجھے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو۔ أطرافه: ٢٦٤٤، ٤٧٩٦، ٥١١١، ٥٢٣٩، ٦١٥٦۔ ببَابِ ۲۳ : شَهَادَةُ الْمُرْضِعَةِ دودھ پلانے والی کی شہادت ٥١٠٤ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۵۱۰۴ : علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ایوب ے فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ ”من“ ہے۔ ( فتح الباری جزء 9 حاشیہ صفحہ ۱۸۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔