صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 42
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۲ ۶۷ - كتاب النكاح أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِ حِيبَةٍ کے کسی رشتہ دار کو نہایت ہی بُرے حال میں قَالَ لَهُ مَاذَا لَقِيتَ؟ قَالَ أَبُو لَهَبٍ لَمْ خواب میں دکھایا گیا۔اس نے اس سے پوچھا: کیسے گزری؟ ابو لہب نے کہا: تم سے جدا ہونے کے بعد أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي تُوَيْبَةَ۔آرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کے عوض میں مجھے کچھ پانی پلا دیا جاتا ہے۔أطرافه: ٥١٠٦، ۰۱۰۷، ۵۱۲۳، ۵۳۷۲۔تشریح : وَأُمَّهَتُكُمُ الَّتى اَرْضَعْنَكُم بینی اور تمہاری و مائیں بھی حرام ہیں جنہوںنے تم کو دودھ پلایا ہے۔اسلام نے ان رشتوں کو بھی حرمت کے رشتوں میں شمار کیا ہے جو رضاعت یعنی دودھ پلانے سے بنتے ہیں اور ان کی حرمت بھی ویسی ہے جیسی حقیقی رشتوں کی۔یعنی ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کی ہے۔اس سے اسلام نے حرمت کے دائرہ کو ایسی وسعت دی ہے کہ بہت سارے غیر حقیقی رشتوں کو حقیقی رشتوں کی لڑی میں پروکر خاندان کا دائرہ اس قدر بڑھا دیا ہے کہ وہ روز افزوں ترقی کے ساتھ ساتھ تمام انسانی معاشرہ کو ایک ناطے میں باندھ کر ایک جسم کی صورت بنا دیتا ہے کہ اس کے ایک حصہ کی تکلیف کو سارا بدن محسوس کرتا ہے اور ایک حصہ کی خوشی سارے وجود کو مسرور کر دیتی ہے۔اس سے دراصل تمام انسانی رشتوں کے احترام کی تعلیم دی ہے جو معاشرے کو جنت نظیر بنانے کا ایک نہایت حکیمانہ منصوبہ ہے جس کی حکمتیں وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ کھلتی جائیں گی اور انسان اسلامی تعلیم کی ان خوبیوں کا دلدادہ بنتا جائے گا۔بَاب ۲۱ : مَنْ قَالَ لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ جس نے کہا کہ دو سال کے بعد دودھ نہ پلایا جائے لِقَوْلِهِ تَعَالَى حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یعنی دوبرس دودھ پلانا أنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ (البقرة: ٢٣٤) وَمَا ہو گا، یہ اس کے لئے جو پورے طور پر دودھ پلانا يُحَرِّمُ مِنْ قَلِيلِ الرَّضَاعِ وَكَثِيرِهِ۔چاہیے، اور جو رشتے معزز ہو جاتے ہیں بوجہ تھوڑے دودھ پلانے سے یا زیادہ۔٥١٠٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۵۱۰۲: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے اشعث سے، اشعث نے مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اپنے باپ (سلیم بن اسود) سے، انہوں نے مسروق أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ سے ، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَكَأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے