صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 39
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۹ ۶۷ - كتاب النكاح وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا اور علی بن حسین (زین العابدین علیہما السلام نے السَّلَام يَعْنِي مَثْنَى أَوْ ثُلَاثَ أَوْ رُبَاعَ کہا: اس آیت سے یہ مراد ہے دو یا تین یا چار۔وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ أُولَى أَجْنِحَةٍ مَثْنى جیسے الله جل ذکرہ نے (اس آیت میں ) فرمایا: أولى أجنحة۔۔یعنی دو پنکھ والے یا تین پنکھ والے یا چار پنکھ والے۔وَثُلثَ وَرُبع (الفاطر:٢) يَعْنِي مَثْنَى قَالَتْ أَوْ ثُلَاثَ أَوْ رُبَاعَ ٥٠٩٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ :۵۰۹۸: محمد بن سلام بیکندی) نے ہم سے بیان عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وَاِنْ کیا کہ عبدہ نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے ہشام سے، خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا في الیتی (النساء: ٤) ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ سے روایت کی: وإن خفتم جو آیت ہے، وَهُوَ وَلِيُّهَا فَيَتَزَوَّجُهَا عَلَى مَالِهَا (حضرت عائشہ نے) فرمایا: اس سے وہ یتیم لڑکی وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا وَلَا يَعْدِلُ فِي مَالِهَا مراد ہے جو کسی شخص کے پاس ہو اور وہ اس فَلْيَتَزَوَّجْ مَا طَابَ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ کا سر پرست ہو پھر وہ اس کے مال کی وجہ سے اُس سِوَاهَا مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ۔سے شادی کر لے اور اس سے بُرا سلوک کرے اور اُس کے مال میں انصاف سے تصرف نہ کرے تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اس کے سوا دوسری عورتوں سے جو اُسے پسند ہوں نکاح کرلے دو سے یا تین سے یا چار سے۔أطرافه: ٢٤٩٤، ۲۷٦٣ ٤٥۷۳، ٤٥٧٤، ٤٦٠٠، ٥٠٦٤، ۰۰٩٢، ۵۱۲۸، ۵۱۳۱، -٥١٤٠، ٦٩٦٥ بَاب ٢٠ : وَأَمَّهُتُكُمُ الَّتِي اَرْضَعْنَكُمُ (النساء: ٢٤) یعنی تمہاری وہ مائیں بھی حرام ہیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ اور دودھ پلانے سے وہ رشتہ بھی حرام ہو جاتا ہے النَّسَبِ۔جو رشتہ نسب کی وجہ سے حرام ہو جاتا ہے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور اگر تم ڈرو کہ تم بتامی کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے۔“