صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 572
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۷۲ ۷۴ - كتاب الأشربة عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيْبَاجِ کرنے کا حکم دیا اور ہمیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے اور چاندی کے برتن میں پینے اور ریشمی زین پوشوں وَالْإِسْتَبْرَقِ۔پر سواری کرنے اور قسی، ریشم اور دیباج اور استبرق پہننے سے منع فرمایا۔أطرافه : ۱۲۳۹۸ ، ۲٤٤٥ ،۵۱۷۰، ۰۰۰، ۱۰۸۳۸ ،۵۸٤۹، ٥۸۶۳ ٦٢٢٢، ٦٢٣٥، -٦٦٥٤ تشریح آنِيَةُ الْفِضَّةِ: چاندی کے برتن۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے چاندی وغیرہ کے بٹن استعمال کرنے سے متعلق پوچھا گیا۔آپ نے فرمایا کہ ۳ ۴ ماشہ تک کوئی حرج نہیں، لیکن زیادہ کا استعمال منع ہے۔اصل میں سونا چاندی عورتوں کی زینت کے لیے جائز رکھا ہے۔ہاں علاج کے طور پر ان کا استعمال منع نہیں۔جیسے کسی شخص کو کوئی عارضہ ہو اور چاندی سونے کے برتن میں کھانا طبیب بتلاوے تو بطور علاج کے صحت تک وہ استعمال کر سکتا ہے۔ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اُسے جو میں بہت پڑی ہوئی تھیں۔آپ نے حکم دیا کہ توریشم کا کرتہ پہنا کر اس سے جوئیں نہیں پڑتیں۔(ایسے ہی خارش والے کے لیے ریشم کا لباس مفید ہے۔“ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۹۴) بَاب ۲۹ : الشَّرْبُ فِي الْأَقْدَاحِ پیالوں میں پینا ٥٦٣٦: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ۵۶۳۶: عمرو بن عباس نے مجھے بتایا کہ عبد الرحمن حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ (بن) (مهدی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُمَيْرٍ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سالم ابو نضر مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّهُمْ سے ، سالم نے عمیر سے جو حضرت ام الفضل کے شَكُوْا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ غلام تھے، عمیر نے حضرت ام الفضل سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ کرتے ہوئے بتایا کہ لوگوں کو عرفہ کے دن نبی