صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 570
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۷۰ ۷۴ - كتاب الأشربة چاندی کے بیچ میں ایک جوہر محبت ہے اس لیے یہ زیادہ مرغوب ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ جنت کی نعماء میں چاندی کے برتنوں کا ذکر ہے حالانکہ اس سے بیش قیمت سونا ہے۔ وہ لو وہ لوگ اس راز کو جو کہ خدا تعالیٰ نے چاند ؟ انے چاندی میں رکھا ہے نہیں سمجھے جنت میں چونکہ غل اور کینہ اور بغض وغیرہ نہیں ہو گا اور آپس میں محبت ہو گی اور چونکہ چاندی میں جو ہر محبت ہے اس لیے اس نسبت باطنی سے جنت میں اس کو پسند کیا گیا ہے اس میں جو ہر محبت کا ثبوت یہ ہے کہ اگر طرفین میں لڑائی ہو تو چاندی دے دینے سے صلح ہو جاتی ہے اور کدورت دور ہو جاتی ہے۔ کسی کی نظر عنایت حاصل کرنی ہو تو چاندی پیش کی جاتی ہے۔ علوم یا تو قیاس سے معلوم ہوتے ہیں اور یا تجربہ سے۔ چاندی کے اس اثر کا پتہ تجربہ سے لگتا ہے۔ خواب میں اگر ایک کسی مسلمان کو چاندی دے تو اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اسے اسلام سے محبت ہے اور وہ مسلمان ہو جاوے گا۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۴۰۵) بَاب ۲۸ : آنِيَةُ الْفِضَّةِ چاندی کے برتن ٥٦٣٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۵۷۳۳ : محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد ) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٌّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبد اللہ ) عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ بن عون سے، ابن عون نے مجاہد ( بن جبر ) سے، خَرَجْنَا مَعَ حُذَيْفَةَ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى مجاہد نے (عبدالرحمن) بن ابی لیلیٰ سے روایت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ بن یمان ) آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَلْبَسُوا کے ساتھ باہر گئے اور حضرت حذیفہ نے نبی صلی اللہ الْحَرِيرَ وَالدِّيْبَاجَ فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ آپؐ نے فرمایا: سونے اور الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ۔ رض چاندی کے برتن میں نہ پیو اور نہ ریشم اور دیباج پہنو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں ان کے لئے ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں۔ أطرافه : ٥٤٢٦ ، ٥٦٣٢ ، ۵۸۳۱، ۵۸۳۷