صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 569
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۶۹ ۷۴ - كتاب الأشربة یکلخت ایک ہی سانس میں پانی پی جانا بھی جہاں انسان کی بے صبری اور بے و قرے پن کو ظاہر کرتا ہے وہاں صحت کے لیے بھی مضر ثابت ہو سکتا ہے۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بد عادت سے بھی بڑے لطیف انداز میں منع فرمایا۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایک دم اونٹ کی طرح پانی نہ پیو۔بلکہ دو تین مرتبہ دم لے کر پیو اور بسم اللہ کہو۔جب پانی پینا شروع کرو تو بسم اللہ اور جب دوبارہ بر تن منہ سے لگاؤ تو الحمد للہ کہو۔“ (روز نامہه الفضل ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ء، صفحه ۴) باب ۲۷: الشُّرْبُ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ سونے کے برتن میں پینا ٥٦٣٢: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۵۶۳۲ حفص بن عمر ( حوضی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ کیا کہ شعبہ ( بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَابِنَ علم بن عتیبہ) سے، حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے فَاسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِقَدَح فِضَّةٍ روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت حذیفہ (بن فَرَمَاهُ بِهِ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ إِلَّا أَنِي (يمان) مدائن میں تھے تو انہوں نے پانی مانگا تو نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ ایک کسان ان کے پاس چاندی کا پیالہ لایا۔آپ نے وہ پیالہ اس پر پھینک دیا اور کہنے لگے : میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ الْحَرِيْرِ نے اسے نہیں پھینکا مگر اس لئے کہ میں نے اس وَالدِّيْبَاحِ وَالشَّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ کو منع کیا ہے اور وہ باز نہیں آیا۔اور نبی صلی اللہ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ هُنَّ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا علیہ وسلم نے ریشمی کپڑوں اور دیباج اور سونے چاندی کے برتن میں پینے سے ہمیں منع کیا۔اور وَهُنَّ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ۔أطرافه ٥٤٢٦ ، ٥٦٣٣ ، ٥٨٣١ ، ٥٨٣٧ فرمایا: یہ چیزیں دنیا میں ان کے لئے ہیں اور وہ آخرت میں تمہارے لئے ہوں گی۔الشُّرْبُ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ: سونے کے برتن میں پینا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ السلام فرماتے ہیں: