صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 568
البخاری جلد ۱۳ ۵۲۸ ۷۴ - كتاب الأشربة الهى عَنِ التَنفُسِ فِي الإِناء: برتن میں سانس لینے سے منع کرنا۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع ) فرماتے ہیں: وقفہ کے بغیر مسلسل پانی وغیرہ پیتے جانے کی ممانعت میں یہ حکمت بھی پیش نظر تھی کہ اس طرح اشیائے خوردونوش میں گندے سانس کی جو ہو سکتا ہے مہلک جراثیم سے لدا ہوا ہو، ملاوٹ شامل نہ ہو جائے۔چنانچہ اس حکمت کو مندرجہ ذیل حدیث واضح الفاظ میں بیان کرتی ہے۔حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیتے وقت پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ایک شخص نے عرض کیا میں پانی میں تنکے پڑے ہوئے دیکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا ( ایسی حالت میں) تھوڑا سا پانی پھینک دو۔پھر اس نے عرض کیا۔میں ایک سانس میں پانی پینے سے سیراب نہیں ہو تا ( یعنی مجھے پیاس بجھنے سے قبل دو تین سانس لینے پڑتے ہیں اور لازماً اس طرح سانس پانی میں پڑتا ہے۔ناقل) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیالے کو منہ سے علیحدہ کرو اور پھر سانس لو۔“ ( حفظانِ صحت کی دینی تعلیم از حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد ، روزنامه الفضل ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ء، صفحه ۵) باب ٢٦ : الشُّرْبُ بِنَفَسَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ دو یا تین سانسوں میں پینا :٥٦٣١ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَأَبُو ۵۶۳۱: ابو عاصم اور ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا۔نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ ان دونوں نے کہا: ہمیں عزرہ بن ثابت نے أَخْبَرَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ كَانَ بتایا۔عزرہ نے کہا: مجھے ثمامہ بن عبد اللہ نے بتایا۔أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ وہ کہتے تھے: حضرت انس برتن سے دو یا تین ثَلَاثًا وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سانس لے کر پانی پیا کرتے تھے اور ان کا خیال تھا وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا۔کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین بار سانس لے کر پیا کرتے تھے۔تشریح: ال مريح : الشُّرْبُ بِنَفَسَيْنٍ أَوْ ثَلاثة: رویا تین سانسوں میں پینا حضرت صاجزادہ مرزا طاہر احد (خلیفۃ المسیح الرابع ) فرماتے ہیں: