صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 555
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۵۵ ۷۴ - كتاب الأشربة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ انصاری شخص کے پاس گئے اور آپ کے ساتھ پاکی صَاحِبٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ آپ کے ایک ساتھی تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءً بَاتَ نے ان سے فرمایا: اگر تمہارے پاس پانی ہو جو آج هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَئَةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ رات مشک میں رہا ہو ورنہ یہیں سے منہ لگا کر پانی وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ قَالَ پی لیں گے۔حضرت جابر نے کہا: اور وہ شخص اپنے فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي مَاءً باغ میں پانی لگا رہا تھا۔حضرت جابر کہتے تھے۔بَائِتٌ فَانْطَلِقْ إِلَى الْعَرِيْشِ قَالَ فَانْطَلَقَ اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے پاس رات بِهِمَا فَسَكَبَ فِي قَدَحِ ثُمَّ حَلَبَ کا رکھا ہو اپانی ہے۔آپ جھونپڑی کو چلیں۔حضرت جابر کہتے تھے : وہ ان دونوں کو لے گیا اور ایک عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ قَالَ فَشَرِبَ پیالے میں پانی ڈالا۔پھر اس پر گھر کی بکری سے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دودھ دوہا۔کہتے تھے : رسول اللہ صلی ا ولم نے پیا پھر شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ۔اس شخص نے بھی پیا جو آپ کے ساتھ تھا۔طرفه ٥٦٢١ - باب ١٥: شَرَابُ الْحَلْوَاءِ وَالْعَسَلِ میٹھے اور شہد کا شربت وَقَالَ الزُّهْرِيُّ لَا يَحِلُّ شُرْبُ بَوْلِ اور زہری نے کہا: پیاس کی شدت کی وجہ سے جو النَّاسِ لِشِدَّةٍ تَنْزِلُ لِأَنَّهُ رِجْسٌ قَالَ اللهُ کسی کو لگے لوگوں کا پیشاب پینا درست نہیں کیونکہ تَعَالَى أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبتُ (المائدة: (٦) وہ ناپاک ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : تمہارے وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي السَّكَرِ إِنَّ اللهَ لئے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئیں۔اور حضرت لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيْمَا حَرَّمَ ابن مسعودؓ نے نشہ آور چیز کے متعلق کہا کہ اللہ نے ان چیزوں میں تمہاری شفا نہیں رکھی جو اس عَلَيْكُمْ۔نے تم پر حرام کیں۔