صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 553 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 553

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۵۳ ۷۴ - كتاب الأشربة أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ يَقُوْلُ كَانَ سے ، اسحاق نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔وہ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيِّ بِالْمَدِينَةِ کہتے تھے: حضرت ابوطلحہ مدینہ میں سب انصاریوں سے زیادہ کھجوروں کے باغ رکھتے تھے مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ اور ان کو اپنے باغوں میں سے سب سے پیارا باغ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَ الْمَسْجِدِ بیرحاء کا باغ تھا اور وہ مسجد کے سامنے ہی تھا اور وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں جایا کرتے وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيْهَا تھے اور وہاں کا پاک شیر یں پانی پیا کرتے تھے۔طَيِّبِ۔قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ حضرت انس نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ حضرت ابو طلحہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: (آل عمران: ۹۳) قَامَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ پارسول اللہ ! اللہ فرماتا ہے: تم کامل نیکی کو ہرگز يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَن نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ اشیاء میں تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سے (خدا کے لئے) خرچ نہ کرو۔اور میرے وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ وَإِنَّهَا باغوں میں سے مجھے سب سے پیارا بیرحاء کا باغ صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ ہے اور اب یہ اللہ کے لیے صدقہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ یہ ایک نیک عمل ہو گا اور اللہ کے ہاں اللهِ فَضَعْهَا يَا رَسُوْلَ اللهِ حَيْثُ أَرَاكَ یہ ذخیرہ ہو گا۔اس لئے یا رسول اللہ ! جہاں اللہ الله فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ آپ کو مناسب سو جھائے وہاں اس کو خرچ کریں۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَحْ ذَلِكَ مَالٌ رَايحٌ أَوْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: رَابِحٌ شَكَ عَبْدُ اللهِ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا واہ واہ ! یہ تو چلتا مال ہے۔یا فرمایا: نفع بخش مال قُلْتَ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي ہے۔بد اللہ بن مسلمہ ) نے اس کے متعلق شک الْأَقْرَبَيْنَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا کیا کہ کونسا لفظ فرمایا ہے۔اور (آپ نے فرمایا:) میں نے سن لیا جو تم نے کہا ہے اور میں مناسب رَسُوْلَ اللهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي سمجھتا ہوں کہ تم اس کو قریبی رشتہ داروں میں أَقَارِبِهِ وَفِي بَنِي عَمِهِ۔وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ تقسیم کر دو۔حضرت ابو طلحہ نے کہا: یارسول اللہ !