صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 535 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 535

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۳۵ ۷۴ - كتاب الأشربة دروازہ کھول کر دریافت کرو کہ بات کیا ہے؟ دوسرا شخص جس کو اس نے مخاطب کیا تھا وہ دروازہ کے پاس بیٹھا تھا اور اُس نے اپنے ہاتھ میں ایک مضبوط ڈنڈا پکڑا ہوا تھا اس نے جواب دیا کہ پہلے میں ڈنڈے سے مٹکوں کو توڑوں گا اور پھر دریافت کروں گا کہ کیا بات ہے؟ جب ہمارے کان میں یہ آواز آگئی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے تو اب اس کے بعد ایک لمحہ کا توقف بھی جائز نہیں اس لئے میں پہلے مٹکے توڑوں گا اور پھر دروازہ کھول کر اس سے دریافت کروں گا چنانچہ اس نے پہلے مٹکے توڑے اور پھر مُنادی والے سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اُس نے بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے۔اُس نے کہا الحمد للہ ہم پہلے ہی مٹکوں کو توڑ چکے ہیں۔(سیر روحانی (۲)، انوار العلوم جلد ۱۶ صفحه ۶۲،۶۱) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دیال سنگھ کالج کے بانی کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ بالکل اسلام کے قریب پہنچ گئے تھے مگر جو شخص انہیں تبلیغ کر رہا تھا اس نے ایک دفعہ صرف اس آیت پر تھوڑی دیر کے لئے عمل چھوڑ دیا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اسلام سے منحرف ہو گئے۔سردار دیال سنگھ صاحب جن کے نام پر لاہور میں کالج بنا ہوا ہے سکھ مذہب سے سخت متنفر تھے کسی مولوی سے انہیں اسلام کا م ہوا اور جب اسلامی تعلیم پر انہوں نے غور کیا تو وہ بہت ہی متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنی مجلس میں اسلام کی خوبیوں کا اظہار کرنا شروع کر دیا اور کہنے لگ گئے کہ میں اب اسلام قبول کرنے والا ہوں۔ان کا ایک ہندو دوست تھا جو بڑا چالاک تھا اُس نے جب دیکھا کہ یہ مسلمان ہونے لگے ہیں تو اس نے انہیں کہا کہ سردار صاحب! ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور۔یہ تو محض مسلمانوں کی باتیں ہیں کہ اسلام بڑا اچھا مذہب ہے ورنہ عمل کے لحاظ سے کوئی مسلمان بھی اسلامی تعلیم پر کار بند نہیں۔اگر آپ کو میری اس بات پر اعتبار نہ ہو تو جو مولوی آپ کو اسلام کی تبلیغ کرنے کے لئے آتا ہے آپ اس کے سامنے ایک سو روپیہ رکھ دیں اور کہیں کہ ایک دن تو میری خاطر شراب پی لے، پھر آپ دیکھیں گے کہ وہ شراب پیتا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔چنانچہ جب دوسرے دن وہی مولوی آیا تو انہوں نے سو روپیہ کی تھیلی اس کے سامنے رکھ دی اور