صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 536
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۳۶ ۷۴ - كتاب الأشربة کہا مولوی صاحب ! اب تو میں نے مسلمان ہو ہی جانا ہے، ایک دن تو آپ بھی میرے ساتھ شراب پی لیں اور دیکھیں میں نے آپ کی کتنی باتیں مانی ہیں کیا آپ میری اتنی معمولی سے بات بھی نہیں مان سکتے۔ اس کے بعد تو میں نے شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگانا، صرف آج شراب پی لیں۔ اُس نے سو روپیہ کی تھیلی لے لی اور شراب کا گلاس اُٹھا کر پی لیا۔ سردار دیال سنگھ صاحب پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ وہ بجائے مسلمان ہونے کے برہمو سماج سے جاملے اور انہوں نے اپنی ساری جائیداد اس کیلئے وقف کر دی۔ یہ نتیجہ تھا در حقیقت اس آیت کی خلاف ورزی کا۔“ (سیر روحانی (۲)، انوار العلوم جلد ۱۶ صفحہ ۷۳،۷۲) بَاب ٤ : الْخَمْرُ مِنَ الْعَسَلِ وَهُوَ الْبِتْعُ شہد کی شراب اور وہ بیع کہلاتی ہے وَقَالَ مَعْنٌ سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ اور معن نے کہا: میں نے مالک بن انس سے فقاع عَنِ الْفُقَاعِ فَقَالَ إِذَا لَمْ يُسْكِرْ فَلَا (مقی کے شربت ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بَأْسَ بِهِ۔ وَقَالَ ابْنُ الدَّرَاوَرْدِي سَأَلْنَا کہا: جب نشہ آور نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اور عَنْهُ فَقَالُوْا لَا يُسْكِرُ لَا بَأْسَ بِهِ۔ (عبد العزیز) بن (محمد) در اور دی نے کہا کہ ہم نے اس کے متعلق پوچھا تو علماء نے کہا: جو نشہ نہیں لاتا اس میں کوئی حرج نہیں۔ ٥٥٨٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۵۸۵ عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت عائشہ کہتی سے شہد کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِنْعِ تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ شراب کے متعلق پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: ہر شراب جو نشہ لائے وہ حرام ہے۔ أطرافه: ٢٤٢، ٥٥٨٦