صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 534
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۳۴ ۷۴ - كتاب الأشربة شراب تھی توڑ دیا اور اس کے بعد وہ لوگ کبھی شراب کے نزدیک نہیں گئے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اثر لوگوں کے دلوں پر کیا تھا۔مجلس شراب میں جبکہ لوگ نشہ میں ہیں۔ایک شخص کے خبر دینے پر بلاتحقیق شراب کا بہا دینا کوئی معمولی بات نہیں۔اس کی اہمیت کو وہ اقوام زیادہ سمجھ سکتی ہیں جو شراب کی عادی ہیں کیونکہ جب دور سے دیکھنے والے ان کی اس حالت کو عجیب حیرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو خود ان کے دل ضرور اس حالت کی خصوصیت کو اچھی طرح محسوس کرتے ہوں گے۔اس واقعہ کو دوسرے مذاہب اور دوسرے تمدنوں اور قوانین کے اثرات کے ساتھ ملا کر دیکھو کہ کیا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق نہیں؟ آج جبکہ سائنس اور علوم طبعیہ شراب کی مضرت کو ثابت کر رہے ہیں اور شراب کے ترک کرنے میں ملکی بہبودی اور مالی فراخی کی بھی امید ہے پھر بھی لوگ شراب چھوڑنے کے لئے تیار نہیں لیکن عرب کا مخمور مسلم ایک راستہ پر چلنے والے کی اکیلی آواز سن کر کہ شراب حرام کی گئی ہے شراب کے مٹکوں کو توڑ کر مدینہ کی گلیوں میں شراب ہی کا دریا بہا دیتا ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلِّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ( تفسير كبير ، سورة البقرة، يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْخَيْرِ وَالْمَيْسِي۔۔جلد دوم صفحه ۴۹۲) نیز حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو جب یہ آیت اتری کہ شراب حرام ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو مدینہ کی گلیوں میں اس کا اعلان کرنے کے لئے مقرر کیا تو احادیث میں آتا ہے ایک جگہ شادی کی مجلس لگی ہوئی تھی اور گانا گا یا جارہا تھا اتنے میں باہر سے آواز آئی کہ شراب حرام ہو گئی ہے، لکھا ہے جس وقت یہ اعلان ہوا اس وقت وہ لوگ شراب کا ایک مٹکا ختم کر چکے تھے اور دو مٹکے ابھی رہتے تھے۔نشہ کی حالت ان پر طاری تھی اور وہ شراب کی ترنگ میں گا بجارہے تھے کہ باہر سے آواز آئی شراب حرام کر دی گئی ہے۔یہ سنتے ہی ایک شخص نشہ کی حالت میں بولا کہ کوئی شخص آوازیں دیتا ہے اور کہتا ہے شراب حرام ہو گئی ہے۔دروازہ کھول کر پتہ تو لو کہ بات کیا ہے ؟ اوّل تو کوئی شرابی نشہ کی حالت میں اس قسم کے الفاظ نہیں کہ سکتا مگر ان کا دینی جذبہ اس قدر زبر دست تھا کہ انہوں نے معاً آواز پر اپنا کان دھرا اور ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ