صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 530
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۳۰ ۷۴ - كتاب الأشربة رڈ کر دیا۔تو گو دودھ کے پیالہ کی یہ تعبیر تھی کہ آپ کی امت ہلاکت سے بچی رہے گی اور اسے الہی علوم سے ہمیشہ حصہ ملتار ہے گا مگر ہم تمثیلی طور پر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے جسم نے اس وقت پیاس محسوس کی۔جس پر خد تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دودھ کا پیالہ دیا گیا اور اس کے پینے سے آپ کو اس قدر سیری ہوئی کہ آپ کی پیاس بالکل جاتی رہی۔سارے جھگڑے صرف اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ انسان ان باتوں کو جسمانیات کی طرف لے آتا ہے حالانکہ ان کا تعلق جسمانیات سے نہیں بلکہ روحانیات سے ہے۔اگر انسان ہر بات کو روحانی نقطہ نگاہ سے دیکھے اور سمجھے کہ ننگے پیر ہونا بھی روحانی دنیا میں ایک مفہوم رکھتا ہے۔ننگے بدن ہونا بھی ایک مفہوم رکھتا ہے۔نا مختون ہونا بھی ایک مفہوم رکھتا ہے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہونا بھی ایک مفہوم رکھتا ہے تو خواہ اس سے بھی بڑھ کر عجیب و غریب حدیثیں آجائیں وہ فوراً سمجھ لیتا ہے کہ وہاں کی روحانی کیفیات کا یہ ایک ظاہری نقشہ صرف ہمیں سمجھانے کے لئے کھینچا گیا ہے ورنہ ہر ظاہر ایک باطن بھی رکھتا ہے اور اصل چیز وہی باطن ہے جو خالص روحانی چیز ہے اور مادیات سے بہت بالا ہے۔“ ( تفسير كبير ، سورة مريم زير آيت يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ۔۔۔جلد پنجم صفحه ۳۷۲،۳۷۱) من أَشراط الساعة : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت کی علامات میں سے یہ علامات ہیں کہ علم اُٹھ جائے گا اور جہالت قائم ہو جائے گی اور شراب پی جائے گی اور زنا علی الاعلان کیا جائے گا یعنی کنچنسیوں کا طریق رائج ہو جائے گا اور لوگ اپنی زناکاریوں کا مجالس میں فخر سے ذکر کریں گے۔اس حدیث میں قیامت سے مراد اسلام کا تنزل ہے۔“ (تفسیر کبیر، سورۃ التکویر جلد ۸ صفحه ۱۹۳) بَابِ ٢ : الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ وَغَيْرِهِ انگور وغیرہ کی شراب ٥٥٧٩: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ :۵۵۷۹: حسن بن صباح نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ محمد بن سابق نے ہمیں بتایا کہ مالک نے جو هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مغول کے بیٹے ہیں، ہم سے بیان کیا۔مالک نے