صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 529
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۲۹ ۷۴ - كتاب الأشربة نہ تھی بلکہ اس زمانہ کی طب بھی شراب کو ایک نہایت ہی مقوی اور اعلیٰ درجہ کی شے قرار دیتی تھی اور اس کا پینا صحت جسمانی کے لئے نہایت مفید قرار دیا جاتا تھا۔مگر باوجود ان سب باتوں کے اسلام نے شراب کو منع فرمایا اور قطعی طور پر اس کا استعمال ناجائز قرار دے دیا۔اور یو نہی بلا وجہ نہیں بلکہ دلائل کے ساتھ اور دلائل دیتے وقت بھی تعصب سے کام نہیں لیا بلکہ اس کے استعمال کو منع کرتے وقت یہ بھی اقرار کیا کہ اس میں فوائد بھی ہیں ممکن ہے بعض فلسفیوں نے اس کے استعمال کو بعض حالات میں ناپسند کیا ہو لیکن جس رنگ میں اسلام نے اس مسئلہ کو حل کیا ہے اور کسی نے نہیں کیا۔“ ( تفسیر كبير ، سورة البقرة ، يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْخَيْرِ وَالْمَيْسِ۔۔جلد دوم صفحه ۴۸۰) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: جنگوں کے موقعہ پر وہ خصوصیت سے شراب کا زیادہ استعمال کیا کرتے تھے تا کہ وہ نتائج سے بے پرواہ ہو کر لڑیں اور عاقبت اندیشی کا خیال ان میں نہ رہے مگر ایسے ماحول میں رہنے کے باوجود انہوں نے خود پوچھا کہ یا رسول اللہ ! شراب اور جوئے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ابھی شراب اور جوئے کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کے بعد وہ محسوس کرتے تھے کہ یہ چیزیں قرب الہی میں روک ہیں اور ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کوئی واضح حکم نازل ہونا چاہیے۔پس یہ سوال خود اپنی ذات میں صحابہ کرام کی پاکیزگی، ان کی بلندی اخلاق اور ان کے اعلیٰ کردار کا ایک زبر دست ثبوت ہے۔شراب اور نجوا یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کے روکنے کے لئے دنیا میں بڑی بڑی کوششیں ہوتی رہی ہیں مگر اسلام کے سوا اور کوئی مذہب ان کو روک نہیں سکا۔صرف اسلام ہی ہے جسے اس میدان میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔( تفسیر کبير، سورة البقرة ، يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْخَيْرِ وَالمَيسِ۔۔جلد دوم صفحه ۴۸۰) أُسرى بِهِ بِأَيْلِيَاءَ بِقَدَ حَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ : جس رات آپ کو اسراء کر وایا گیا تو ایلیا میں لے جایا گیا۔دو پیالے شراب اور دودھ کے لائے گئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کشفی حالت میں پانی اور شراب اور دودھ کے پیالے پیش کئے گئے اور آپ نے صرف دودھ کا پیالہ لے لیا اور پانی اور شراب کا پیالہ