صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 528 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 528

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۲۸ ۷۴ - كتاب الأشربة يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ وہ مؤمن ہو ، جب شراب پیتا ہے تو ایسی حالت السَّارِقُ حِيْنَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ۔میں شراب نہیں پیتا کہ وہ مؤمن ہو اور چور جب چوری کرتا ہے تو ایسی حالت میں نہیں کرتا کہ وہ مؤمن ہو۔قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي ابن شہاب نے کہا اور مجھے عبد الملک بن ابی بکر عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ ابو بکر ان کو یہ حدیث حضرت ابوہریرۃ سے أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُ عَنْ روایت کرتے ہوئے بتاتے تھے۔پھر کہتے تھے أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَقُوْلُ كَانَ أَبُو بَكْرِ کہ ابو بکر ان باتوں کے ساتھ اتنا اور بڑھاتے يُلْحِقُ مَعَهُنَّ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ تھے اور آدمی جو بھی ڈاکہ ڈالتا ہے ایسا کہ لوگ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ اس میں اپنی نگاہیں اس کی طرف اٹھاتے ہوں تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ مؤمن ہو جب وہ ایسا ڈاکہ فِيْهَا حِيْنَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ۔أطرافه ٢٤٧٥، ٦٧٧٢، ٦٨١٠- ڈالتا ہے۔تشريح: إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ۔۔۔۔شراب اور جوا اور بہت اور قرعہ اندازی کے تیر محض ناپاک (اور) شیطانی کام ہیں۔اس لیے تم ان (میں) سے (ہر اک سے بچو۔الْخَمْرُ اسْمُ لِكُلِّ مُسْكِر حَامِرِ الْعَقلِ (اقرب الموارد - خمر خمر ہر ایک نشہ دینے والی چیز کو کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ دیتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان آیات میں شراب کو قطعی طور پر منع کر دیا گیا ہے اور ایک مسلمان کے لئے اس چیز کا استعمال ہرگز جائز نہیں۔میں بتا چکا ہوں کہ جس وقت یہ حکم اسلام نے دیا ہے اس وقت تک تمام مذاہب شراب کو نہ صرف یہ کہ برا نہیں قرار دیتے تھے بلکہ اس کے استعمال کو بالعموم اچھا سمجھتے تھے اور بعض مذاہب کی رسوم میں اس کا استعمال واجب تھا۔ایسے موقعہ پر اسلام کا شراب کو منع فرمانا کوئی معمولی بات نہ تھی۔دنیا اس حکم کی خوبی کو سمجھنے کے لیے ابھی تیار