صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 525
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۲۵ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ٧٤ - كتاب الأشريَةِ پینے کی چیزوں کے متعلق احکام 0000000 ۷۴ - كتاب الأشربة اسلام اپنے تمام اصولوں میں کامل اور فطرت کے مطابق تعلیم دیتا ہے اور انصاف کے پہلو کو کہیں بھی نظر انداز نہیں کرتا، چاہے دشمن کے متعلق فیصلہ کرنا ہو تب بھی انصاف کا دامن نہیں چھوڑتا۔جیسے فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَ اتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائدة: 9) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقوی کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔(ترجمہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع) کھانے پینے کے احکام میں مشروبات کے متعلق اسلامی تعلیم کی ایک جھلک یہاں پیش کی گئی ہے۔ان احکام میں اسلامی تعلیم کے اس اعلیٰ انصاف کا بھی ذکر آپ کو ملے گا کہ اسلام نے جہاں بعض مشروبات کے استعمال سے منع کیا ہے وہاں ان کے اندر موجود فوائد کا بھی ذکر کیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اصولی طور پر خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ قاعدہ بیان فرمایا دیا ہے کہ اگر کسی کام میں فائدہ زیادہ ہو اور نقصان کم تو اسے اختیار کر لیا کرو۔اور اگر نقصان زیادہ ہو اور فائدہ کم تو اسے کبھی اختیار نہ کیا کرو۔بالخصوص ایسا کام تو کبھی اختیار نہ کرو جس میں اٹھ گپیر ہو۔اٹھ کے معنے گناہ کے بھی ہیں اور اٹھ کے معنے نیکیوں سے محرومی کے بھی ہیں۔گویا انسان کو کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس کے نتیجہ میں اسے گناہ ہو ، یا جس کے نتیجہ میں وہ نیکیوں سے محروم ہو جائے۔خواہ اس میں بظاہر کچھ فوائد بھی دکھائی دیتے ہوں۔پھر منافع للناس فرما کر اسلام نے ہمیں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ خواہ تمہاری نگاہ میں کوئی چیز کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو۔تمہارا فرض ہے کہ تم اس کی خوبیوں سے کلی طور پر انکار نہ کرو۔جب شراب اور جوئے جیسی چیزیں بھی فوائد سے خالی نہیں تو دوسری ضرر رساں چیزوں کو تم فوائد سے خالی کیوں سمجھتے ہو۔بے شک تمہارا فرض ہے کہ تم ان کے ضرر سے بچو۔اور آئندہ نسلوں کو بچاؤ لیکن تمہاری بینائی ایسی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کسی چیز کا صرف